تھرپارکر: سندھ کے ضلع تھرپارکر میں تھر بلاک ٹو کوئلہ کان کے فیز تھری توسیعی منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کان کی سالانہ پیداواری صلاحیت 7.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 11.2 ملین ٹن ہو گئی ہے۔ ریڈیو پاکستان اور بزنس ریکارڈر کے مطابق سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے بلاک ٹو میں 2019 میں 3.8 ملین ٹن سالانہ صلاحیت کے ساتھ تجارتی پیداوار شروع کی تھی۔ دوسرے مرحلے کی تکمیل 2022 میں ہوئی جس سے صلاحیت 7.6 ملین ٹن تک پہنچی۔ تیسرے مرحلے میں مزید 3.6 ملین ٹن سالانہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق توسیع مکمل طور پر خود مالیاتی بنیاد پر کی گئی ہے۔
اضافی کوئلہ 660 میگاواٹ کے لکی الیکٹرک پاور پلانٹ کو فراہم کیا جائے گا۔ اس شمولیت کے بعد تھر بلاک ٹو کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,980 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ان میں 660 میگاواٹ اینگرو پاورجن تھر، 330 میگاواٹ تھر انرجی، 330 میگاواٹ تھل نووا اور 660 میگاواٹ لکی الیکٹرک شامل ہیں۔ منصوبہ حکام کا اندازہ ہے کہ اس پیمانے پر پیداوار تقریباً 45 لاکھ گھرانوں کی یومیہ بجلی کی ضرورت کے مساوی ہو سکتی ہے۔
منصوبے سے متعلق بریفنگ میں دعویٰ کیا گیا کہ توسیع کے بعد کوئلے کی سطحی ٹیرف لاگت 36.72 ڈالر سے کم ہو کر 32.01 ڈالر فی ٹن تک آ سکتی ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں سالانہ تقریباً 15 ارب روپے اور درآمدی ایندھن کی مد میں لگ بھگ 220 ملین ڈالر کی بچت متوقع ہے۔ یہ تخمینے منصوبہ حکام کے ہیں اور عملی بچت ایندھن کی قیمتوں، پلانٹس کے استعمال اور دیگر آپریشنل عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے۔
تھر کوئلے کی توسیع حکومت سندھ کی مقامی توانائی وسائل پر انحصار بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ کوئلہ کان کنی اور حرارتی بجلی کے ماحولیاتی اثرات، پانی کے استعمال، مقامی آبادی اور اخراج سے متعلق نگرانی بھی اہم رہے گی۔ منصوبے کی معاشی کارکردگی کا درست اندازہ آنے والے عرصے میں حقیقی پیداوار، بجلی کی فراہمی، درآمدی متبادل اور ماحولیاتی تعمیل کے نتائج سے لگایا جا سکے گا۔
