اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 220.721 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی، جبکہ جولائی سے ستمبر تک حقیقی اخراجات 61.320 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے تازہ اعداد کے حوالے سے بتایا کہ رواں مالی سال کا مجموعی وفاقی PSDP ایک کھرب روپے رکھا گیا ہے۔

مجموعی پروگرام میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے 682.485 ارب روپے، کارپوریشنز کے لیے 312.515 ارب روپے، منصوبوں کی واجبات کے لیے 4 ارب روپے اور سی پیک 2.0 کی نئی سرگرمیوں کے لیے ایک ارب روپے مختص ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں اجازت یافتہ فنڈز مجموعی سالانہ پروگرام کا تقریباً پانچواں حصہ بنتے ہیں، تاہم خرچ ہونے والی رقم اس سے خاصی کم رہی۔

وزارتوں میں سب سے زیادہ 86.517 ارب روپے واٹر ریسورسز ڈویژن کے لیے منظور کیے گئے۔ کابینہ ڈویژن کے لیے 30 ارب اور صوبوں و خصوصی علاقوں کے لیے 22.150 ارب روپے کی اجازت دی گئی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سالانہ مختص رقم 46 ارب روپے میں سے 7.162 ارب روپے منظور اور 2.741 ارب روپے خرچ ہوئے، جبکہ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے لیے 36.312 ارب روپے کے سالانہ بجٹ میں سے 9.078 ارب روپے منظور اور 6.033 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

ریلوے ڈویژن کے لیے 40.658 ارب روپے کے سالانہ حصے کے مقابلے میں 5.005 ارب روپے منظور اور 2.347 ارب روپے خرچ ہوئے۔ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کے 19.580 ارب روپے میں سے 2.410 ارب روپے کی اجازت دی گئی جبکہ خرچ 418.34 ملین روپے رہا۔ قومی صحت ڈویژن کے لیے 16.065 ارب روپے میں سے 9.639 ارب روپے منظور ہوئے لیکن پہلی سہ ماہی میں اخراجات 644.85 ملین روپے رپورٹ کیے گئے۔

کارپوریشنز میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 224.515 ارب روپے کے سالانہ پروگرام میں سے 22.384 ارب روپے منظور اور 9.295 ارب روپے خرچ ہوئے۔ پاور ڈویژن کی این ٹی ڈی سی/پیپکو اداروں کے لیے 88 ارب روپے مختص ہیں، جن میں سے 10.832 ارب روپے منظور اور 8.171 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

فنڈز کی منظوری اور حقیقی اخراجات دو الگ مراحل ہیں، اس لیے 220.721 ارب روپے کو مکمل خرچ شدہ رقم نہیں سمجھا جا سکتا۔ ترقیاتی پروگرام کی رفتار کا بہتر جائزہ آئندہ سہ ماہیوں میں منصوبوں کی عملی پیش رفت، خریداری، تعمیراتی کام اور حقیقی ادائیگیوں کے اعداد سے ہوگا۔