اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو موسمِ سرما کے لیے جامع گیس لوڈ مینجمنٹ پلان تیار کرنے اور موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں گیس درآمدات بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی گیس میں گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ درآمدی آر ایل این جی بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور صنعتوں کے لیے ترجیحی بنیاد پر مختص کی جائے گی۔
یہ ہدایات ایسے وقت جاری ہوئی ہیں جب دسمبر سے فروری تک تین سرد مہینوں کے لیے ایل این جی درآمدی منصوبہ حتمی شکل دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکا ایران تنازع سے اہم تیل و گیس راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب، پر دباؤ بڑھا اور عالمی ایندھن قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گیس کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈویژن نے تین ماہ کے لیے کم از کم 22 درآمدی کارگو کی ضرورت ظاہر کی، جبکہ توانائی ٹاسک فورس نے بہترین ممکنہ کوشش کی بنیاد پر 10 سے 12 کارگو کا انتظام کرنے کی بات کی ہے۔
ہر اسپاٹ کارگو کی لاگت تقریباً 100 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، اس لیے حتمی درآمدی پلان میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی منظوری بھی اہم ہوگی۔ یہ اعداد منصوبہ بندی اور حکام کی موجودہ ضروریات سے متعلق ہیں؛ ابھی تمام مطلوبہ کارگو کی خریداری یا ترسیل حتمی نہیں ہوئی۔
وزیراعظم نے پلان کے نفاذ سے متعلق عوامی آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔ سردیوں میں پاکستان میں گھریلو گیس طلب بڑھنے کے باعث صنعتی، بجلی اور رہائشی شعبوں کے درمیان رسد کی تقسیم حساس معاملہ بن جاتی ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی نے درآمدی ایندھن کی دستیابی اور قیمت دونوں پر اضافی غیر یقینی پیدا کی ہے۔
اسی اجلاس کے بعد وزیراعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیا اور تمام جاری منصوبوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت کی۔ تاہم گیس سے متعلق فوری پالیسی نکتہ موسمِ سرما سے پہلے رسد، درآمدات اور ترجیحی تقسیم کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنا ہے؛ عملی لوڈ مینجمنٹ شیڈول اور درآمدی مقدار حتمی منظوری کے بعد واضح ہوگی۔
