مٹھی: تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے علاقے دانو دھندھل میں ایک اسپتال کی ایمبولینس میں آگ لگنے سے سات افراد جاں بحق اور پانچ شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو اہلکاروں اور پولیس کے مطابق واقعہ پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو کے زیر انتظام اسپتال میں اس وقت پیش آیا جب مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اسپتال کا عملہ ایمبولینس کے اندر آکسیجن سلنڈر کو مریضوں کے لیے جوڑ رہا تھا کہ اچانک دھماکا ہوا اور گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ اتنی شدید تھی کہ سات افراد موقع پر یا واقعے کے نتیجے میں جان سے گئے، جبکہ پانچ دیگر افراد شدید جھلس گئے۔ زخمیوں میں اسپتال کے عملے کے افراد بھی شامل بتائے گئے ہیں اور انہیں علاج کے لیے مٹھی منتقل کیا گیا۔
پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو آکسیجن سلنڈر کے دھماکے سے منسلک کیا ہے، تاہم حکام نے کہا ہے کہ دیگر ممکنہ پہلوؤں کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس لیے سلنڈر میں تکنیکی خرابی، ہینڈلنگ میں غلطی یا کسی دوسرے سبب کے بارے میں حتمی نتیجہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ریسکیو اہلکاروں نے جاں بحق افراد میں جسونت، ایمبولینس ڈرائیور اسحاق تھیبو اور پاندھی راجر کی شناخت کی۔ باقی متاثرین کی شناخت فوری طور پر مکمل نہیں ہو سکی کیونکہ بعض لاشیں بری طرح جھلس گئی تھیں۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ کے لیے شناخت کے ساتھ واقعے کی مکمل تکنیکی وجہ کا تعین بھی اہم مرحلہ ہوگا۔
مقامی لوگوں نے پی پی ایچ آئی کے زیر انتظام اسپتالوں میں سہولتوں کے معیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ناکافی انتظامات نے سانحے میں کردار ادا کیا۔ یہ مقامی افراد کا الزام ہے اور دستیاب معلومات میں اس دعوے کی آزادانہ یا سرکاری انکوائری سے تصدیق نہیں ہوئی۔ پی پی ایچ آئی یا متعلقہ حکام کی تفصیلی تکنیکی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ادارہ جاتی ذمہ داری کے بارے میں واضح نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔
ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر طبی ضرورت کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن دباؤ والے سلنڈرز کی محفوظ اسٹوریج، باقاعدہ جانچ اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے ہینڈلنگ انتہائی اہم ہوتی ہے۔ تھرپارکر کے اس واقعے کے بعد پولیس کی تحقیقات کے ساتھ یہ بھی دیکھا جانا متوقع ہے کہ ایمبولینس، سلنڈر اور اسپتال کے حفاظتی طریقہ کار مقررہ معیار کے مطابق تھے یا نہیں۔
