تھرپارکر: سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو کے زیر انتظام صحت مرکز پر کھڑی ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کے بعد آگ لگنے سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔ مختلف اوقات میں جاری ہونے والی رپورٹس میں اموات کی تعداد تبدیل ہوتی رہی؛ ڈان نے مٹھی کے ڈپٹی کمشنر حمید جاگیرانی کے حوالے سے جمعرات کو ہلاکتوں کی تعداد نو بتائی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق واقعہ دانو دھندل کے علاقے میں پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ایک خاتون مریضہ کو ایمبولینس کے ذریعے مٹھی کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کے دوران آکسیجن سلنڈر سے متعلق کام کیا جا رہا تھا کہ دھماکا ہوا۔ مریضہ نے ایک بنیادی صحت مرکز میں بچے کو جنم دیا تھا اور بعد از زچگی پیچیدگیوں کے باعث اسے مزید علاج کے لیے منتقل کیا جانا تھا۔
دھماکے کے بعد ایمبولینس میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں مریضوں کے ساتھ صحت مرکز اور ایمبولینس سے وابستہ عملے کے افراد بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں سات، پھر آٹھ اور بعد میں نو اموات کی تصدیق سامنے آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امدادی کارروائی اور زیر علاج زخمیوں کی حالت کے ساتھ اعداد اپ ڈیٹ ہوتے رہے۔ اسی لیے خبر میں تازہ ضلعی سرکاری تصدیق کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
پولیس اور صوبائی حکام نے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ و قانون ضیا الحسن لنجار نے ضلعی پولیس اور انتظامیہ سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ماہر ٹیموں کو شواہد کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا ہے تاکہ دھماکے کی اصل تکنیکی وجہ اور حفاظتی طریقۂ کار میں ممکنہ خامیوں کا تعین کیا جا سکے۔
مقامی سطح پر صحت سہولیات اور ایمبولینس سیفٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، تاہم کسی فرد یا ادارے کی غفلت ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی۔ اس مرحلے پر ذمہ داری سے متعلق دعوؤں کو تحقیقات کے نتائج سے پہلے حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
یہ واقعہ طبی آکسیجن سلنڈروں کی محفوظ تنصیب، دیکھ بھال اور استعمال کے ضابطوں کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، خصوصاً ایسے دور دراز علاقوں میں جہاں مریضوں کو بڑے اسپتالوں تک منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سروس پر زیادہ انحصار ہوتا ہے۔ حکام کی تحقیقات سے یہ طے ہونا باقی ہے کہ سلنڈر، والو، تنصیب کے عمل یا کسی دوسرے فنی عامل نے حادثے میں کیا کردار ادا کیا۔

