کراچی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی 2026 کی کارپوریٹ رپورٹ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شامل 104 بڑی لسٹڈ کمپنیوں کے عوامی انکشافات کا جائزہ لیتے ہوئے مجموعی اوسط اسکور 66.73 فیصد بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کارپوریٹ شفافیت کے کئی شعبوں میں بہتری کے ساتھ انسانی حقوق، ماحولیاتی و سماجی ذمہ داری اور انسداد بدعنوانی سے متعلق معلومات میں نمایاں خلا کی نشاندہی کی گئی ہے۔

جائزے میں کمپنیوں کی ویب سائٹس، سالانہ رپورٹس اور دیگر عوامی دستاویزات میں دستیاب معلومات کو مختلف اشاریوں کے تحت جانچا گیا۔ اس نوعیت کا اسکور کمپنی کے منافع، مارکیٹ ویلیو یا قانونی طور پر بدعنوان ثابت ہونے کا پیمانہ نہیں ہوتا بلکہ یہ بنیادی طور پر اس بات کا جائزہ ہے کہ متعلقہ ادارہ اپنی پالیسیوں، ملکیت، انتظامی ڈھانچے اور ذمہ دار کاروباری طریقوں کے بارے میں کتنی معلومات عوام کے سامنے رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی کمپنیوں نے بنیادی کارپوریٹ معلومات اور بعض گورننس تقاضوں میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی، لیکن انسانی حقوق سے متعلق واضح پالیسی، ماحولیاتی اثرات، سماجی ذمہ داری اور بدعنوانی کے خطرات سے نمٹنے کے تفصیلی طریقہ کار کی اشاعت میں کمزوریاں سامنے آئیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ESG یعنی ماحول، سماج اور گورننس سے متعلق قابل موازنہ معلومات کی اہمیت بڑھنے کے باعث یہ خلا سرمایہ کاری کے تجزیے اور کارپوریٹ جوابدہی دونوں کے لیے اہم ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کمپنیوں کو سفارش کی ہے کہ وہ اپنی انسداد بدعنوانی پالیسیوں، شکایتی و وسل بلوئنگ نظام، انسانی حقوق کے وعدوں اور ماحولیاتی اہداف سے متعلق معلومات زیادہ واضح اور قابل رسائی بنائیں۔ رپورٹ میں ریگولیٹرز اور اسٹاک مارکیٹ کے لیے بھی شفافیت کے معیار کو مزید مضبوط بنانے کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔

یہ جائزہ عوامی طور پر دستیاب معلومات پر مبنی ہے، اس لیے کم اسکور کو کسی مخصوص غیر قانونی عمل یا بدعنوانی کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کا بنیادی مقصد کمپنیوں کے disclosure practices کا تقابلی جائزہ اور ان شعبوں کی نشاندہی ہے جہاں سرمایہ کاروں، ملازمین اور عوام کو زیادہ جامع معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔