واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں تبدیل کرنے پر غور نہیں کر رہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا اور ایران جنگ سمیت خارجہ و دفاعی پالیسی پر ریپبلکن حکومت کو سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا وہ ہیگستھ کو تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع کی کارکردگی کو سراہا۔ تاہم رائٹرز نے بعض ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ریپبلکن قیادت انتخابی شکست کے اسباب کا جائزہ لے رہی ہے اور ہیگستھ کے مستقبل کے بارے میں اندرونی قیاس آرائیاں موجود ہیں۔ یہ اطلاعات ذرائع پر مبنی ہیں؛ صدر نے عوامی طور پر وزیر دفاع کی حمایت برقرار رکھی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ ہیگستھ صدر ٹرمپ کی مدت کے اختتام تک پینٹاگون کی قیادت جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔ دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ کو ریپبلکن انتخابی شکست کی ایک بڑی وجہ قرار دیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا کہ جنگ نے نتائج پر اثر ڈالا، اگرچہ انہوں نے فوجی کارروائی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

ہیگستھ پہلے ہی کانگریس میں متنازع شخصیت رہے ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے رواں سال ان کے خلاف مواخذے کی دفعات پیش کی تھیں اور الزام لگایا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی۔ یہ الزام سیاسی اور قانونی تنازع کا حصہ ہے اور اس سے کسی حتمی خلاف ورزی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

جنوری میں نئی کانگریس کے حلف کے بعد ڈیموکریٹس دفاعی کمیٹیوں کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ پارٹی کے ارکان نے ایران جنگ، اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفیوں، یوکرین پالیسی اور لاطینی امریکی سمندری حدود میں مشتبہ منشیات اسمگلنگ کشتیوں پر امریکی کارروائیوں سمیت متعدد معاملات پر سخت نگرانی کا عندیہ دیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ محکمہ قانون کے مطابق کام کرتا رہا ہے اور ہیگستھ سیاسی تحقیقات سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

رائٹرز کے مطابق ٹینیسی سے سینیٹ کی ایک متوقع خالی نشست کے لیے بھی ہیگستھ کا نام غیر رسمی طور پر زیر بحث رہا ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ بات نہیں سنی۔ فی الحال ہیگستھ وزیر دفاع کے عہدے پر برقرار ہیں اور ان کی تبدیلی کا کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔