واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ملک گیر انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ان کی حالیہ ریلیوں میں معیشت، مہنگائی اور کانگریس پر ریپبلکن کنٹرول برقرار رکھنے کا سوال مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ پارٹی کو روایتی طور پر مضبوط سمجھی جانے والی بعض ریاستوں میں بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ٹرمپ اپنی تقاریر میں کم بے روزگاری، غربت میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم ووٹرز کے لیے روزمرہ اخراجات، خوراک اور پٹرول کی بلند قیمتیں اہم مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق قومی سطح پر پٹرول کی اوسط قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، اور صدر نے اسے ایران جنگ کے خاتمے سے جوڑتے ہوئے قیمتوں میں کمی کی امید ظاہر کی ہے۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم کا جغرافیہ بھی ریپبلکن پارٹی کی مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ ٹیکساس، کنساس، اوہائیو اور آئیووا جیسی ریاستوں میں امیدواروں کے لیے مہم چلا چکے ہیں، جہاں عام حالات میں پارٹی نسبتاً مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکن قیادت کو دفاعی حکمت عملی اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔

صدر اپنی ریلیوں کے ہجوم کو سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، تاہم مختلف مقامات پر حاضری یکساں نہیں رہی۔ رائٹرز/اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی منظوری کی شرح 31 فیصد تک گر گئی ہے۔ سروے کسی انتخابی نتیجے کی ضمانت نہیں ہوتے، لیکن یہ ووٹرز کے عمومی رجحانات اور صدر کی ذاتی مقبولیت کے حوالے سے اہم اشارہ فراہم کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ بدامنی اور عالمی تنازعات کو بھی انتخابی بیانیے میں شامل کیا ہے۔ تاہم امریکی ووٹرز کے لیے بنیادی سوال اب بھی معیشت اور گھریلو اخراجات ہیں۔ چونکہ ٹرمپ خود اس مرتبہ بیلٹ پر نہیں ہوں گے، اس لیے ریپبلکن امیدواروں کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ صدر کی ریلیوں سے پیدا ہونے والا جوش پارٹی کے حق میں ووٹوں میں کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔