واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک سے رابطہ کرکے یوکرین میں اسٹارلنک سروس پر عائد بعض رفتار کی پابندیاں نرم کرنے کو کہا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ میں یوکرین کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی دستیابی اور کارکردگی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے اسٹارلنک کی رفتار محدود کیے جانے پر ناراضی ظاہر کی اور مسک سے اس مسئلے پر بات کی۔ تاہم ٹرمپ نے عوامی طور پر اس بات سے انکار کیا ہے کہ یوکرین میں سروس سست کرنے کے فیصلے میں ان کا کوئی کردار تھا۔ وائٹ ہاؤس اور ایلون مسک کی جانب سے رپورٹ میں بیان کردہ رابطے پر فوری تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسٹارلنک یوکرین کے مواصلاتی ڈھانچے کے لیے جنگ کے دوران اہم ٹیکنالوجی بن چکا ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں زمینی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک متاثر ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے سروس کی رفتار، دستیابی یا جغرافیائی حدود میں تبدیلی فوجی اور شہری دونوں نوعیت کے اثرات پیدا کر سکتی ہے۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی اسٹارلنک کی حدود کا معاملہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھانے کی امید ظاہر کی ہے۔ یہ معاملہ اس وسیع بحث کا حصہ ہے کہ نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی خدمات جنگی حالات میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں سے کس طرح جڑ جاتی ہیں۔

چونکہ بنیادی دعویٰ امریکی اخبار نے نامعلوم حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے، اس لیے اسے سرکاری طور پر تصدیق شدہ پالیسی تبدیلی کے بجائے رپورٹ شدہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اسٹارلنک کی عملی پابندیوں میں کسی مستقل تبدیلی کی مکمل تفصیل سامنے آنے کے بعد ہی اس کے اثرات کا درست اندازہ ممکن ہوگا۔