واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے ”Pakistan-US Tech Connect 2026“ کے نام سے کاروباری اور ٹیکنالوجی رابطہ فورم منعقد کیا ہے، جس میں 16 پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سینئر نمائندوں نے امریکی کمپنیوں، مالیاتی اداروں، سرکاری نمائندوں اور پاکستانی نژاد کاروباری برادری کے ساتھ ممکنہ شراکت داری پر بات چیت کی۔ پروگرام وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور OPEN Global کے تعاون سے منعقد ہوا۔
پاکستانی وفد میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، فن ٹیک، ہیلتھ ٹیک، انٹرپرائز سلوشنز اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے وابستہ کمپنیوں کی قیادت شامل تھی۔ پروگرام میں منظم پینل مباحثوں اور کاروبار سے کاروبار، یعنی B2B، نشستوں کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ میں ممکنہ شراکت داروں، پائلٹ منصوبوں اور تجارتی معاہدوں کے مواقع تلاش کرنے کا پلیٹ فارم دیا گیا۔
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو زیادہ مرکزی معاشی ستون بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے روایتی سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے تناظر سے آگے بڑھتے ہوئے تعلقات کو ”CT سے IT“ کی سمت لے جانے کی بات کی۔ ان کے مطابق پاکستانی ٹیک صنعت کی عالمی معیار کے شعبوں، بالخصوص مصنوعی ذہانت، میں صلاحیت کو براہ راست امریکی کاروباری حلقوں کے سامنے پیش کرنا اس سلسلے کا اہم مقصد ہے۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ، Ignite اور OPEN Global کے نمائندوں نے بھی پاکستانی تکنیکی افرادی قوت اور امریکی مارکیٹ کے حجم کو باہمی تجارتی مواقع کے طور پر اجاگر کیا۔ پینل گفتگو میں معمول کی آؤٹ سورسنگ اور کم لاگت خدمات سے آگے بڑھ کر ملکیتی دانشورانہ املاک، قابل توسیع مصنوعات اور زیادہ قدر والی ٹیکنالوجی خدمات تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
یہ تقریب شراکت داری کے امکانات پیدا کرنے کا فورم تھی، اس لیے اسے 16 کمپنیوں کے لیے حتمی امریکی معاہدوں یا سرمایہ کاری کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل تجارتی اثر کا انحصار بعد کے کاروباری مذاکرات، پائلٹ منصوبوں، معاہدوں اور برآمدی آمدن پر ہوگا۔ تاہم پاکستانی ٹیک کمپنیوں کو براہ راست امریکی کاروباری اور ادارہ جاتی حلقوں سے ملانے کی یہ کوشش آئی ٹی برآمدات کو دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں زیادہ نمایاں مقام دینے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
