انقرہ: ترکیہ کی حکومت سعودی عرب میں فوجی اہلکار بھیجنے کے لیے پارلیمان سے اجازت لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ایک رکن نے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ تعیناتی سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے فریم ورک میں ہوگی اور ابتدائی طور پر ترک اہلکار تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔
ترک قانون کے تحت بیرون ملک فوجی دستوں یا اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی مینڈیٹ درکار ہو سکتا ہے، اسی لیے حکومت ایک باقاعدہ تحریک قومی اسمبلی کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکمران جماعت کے رکن نے واضح کیا کہ منصوبہ کسی جارحانہ فوجی آپریشن کے لیے نہیں بلکہ دفاعی تعاون اور تکنیکی ضروریات سے متعلق ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں دفاعی تعاون کے نئے انتظامات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی رابطے مختلف سطحوں پر بڑھ رہے ہیں، جبکہ ترکیہ نے قطر اور انڈونیشیا سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ بھی دفاعی صنعت، تربیت اور صلاحیت سازی کے فریم ورک قائم کیے ہیں۔
ابھی ترک پارلیمان نے تعیناتی کی منظوری نہیں دی، اس لیے مجوزہ اقدام کو مکمل شدہ فوجی تعیناتی نہیں سمجھا جا سکتا۔ پارلیمانی متن سامنے آنے کے بعد اہلکاروں کی تعداد، مدت، اختیارات، مقام اور مشن کی قانونی حدود زیادہ واضح ہوں گی۔ حکومتی رکن کے بیان میں بھی کسی مخصوص تعداد یا جنگی ذمہ داری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب میں غیر ملکی فوجی تعاون عموماً تربیت، فضائی و میزائل دفاع، تکنیکی معاونت، مشترکہ مشقوں اور دفاعی نظاموں کی دیکھ بھال جیسے شعبوں پر مشتمل ہو سکتا ہے، لیکن ترکیہ کے مجوزہ مشن کی حتمی نوعیت صرف پارلیمانی مینڈیٹ اور سرکاری تفصیلات سے طے ہوگی۔
اس اقدام کی علاقائی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ سلامتی خدشات کے باعث خلیجی ریاستیں فضائی دفاع، ڈرون خطرات اور اہم تنصیبات کے تحفظ پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔ ترکیہ کی ممکنہ تعیناتی اگر منظور ہوتی ہے تو یہ انقرہ اور ریاض کے دفاعی تعلقات میں ایک نیا عملی مرحلہ ہوگی، تاہم اس کے دائرہ کار کے بارے میں فی الحال محدود معلومات دستیاب ہیں۔
