ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو توثیق کے لیے اپنی پارلیمان میں پیش کر دیا ہے۔ رائٹرز نے تین پارلیمانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ قدم نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والے ترکی کو پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ باہمی دفاعی وعدے کے نفاذ کے مزید قریب لے آیا ہے۔
تینوں ممالک نے اگست میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس نوعیت کی شق دفاعی تعاون کو معمول کی تربیت یا سازوسامان کی شراکت سے آگے لے جا کر اجتماعی دفاع کے فریم ورک میں رکھتی ہے۔
ترکیہ کی جانب سے پارلیمانی توثیق کا عمل اس لیے اہم ہے کہ بین الاقوامی دفاعی معاہدوں کے داخلی قانونی نفاذ کے لیے متعلقہ آئینی اور پارلیمانی مراحل مکمل کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق پارلیمان میں جمع کرایا جانا معاہدے کی حتمی توثیق کے مترادف نہیں؛ اس کے لیے قانون ساز ادارے کی منظوری درکار ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو حوثی حملوں اور وسیع تر علاقائی کشیدگی سے سلامتی کے چیلنجز درپیش ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے دفاعی تربیت، فوجی روابط اور دفاعی صنعت میں تعاون موجود ہے، تاہم مکہ معاہدہ ان تعلقات کو زیادہ واضح اجتماعی دفاعی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
معاہدے کے عملی دائرۂ کار، کسی بحران کی صورت میں فوجی ردعمل کے طریقۂ کار اور پارلیمانی توثیق کی حتمی تاریخ کے بارے میں تمام تفصیلات فوری طور پر عوامی نہیں کی گئیں۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو ترکیہ میں قانونی توثیق کے عمل کی پیش رفت سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی فوری فوجی کارروائی یا تعیناتی کا اعلان۔
