ایران نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران واضح کیا ہے کہ تہران اپنے مطالبات پورے ہوئے بغیر امریکا کے ساتھ مذاکرات کی طرف نہیں بڑھے گا۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 20 اکتوبر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں ثالثی کی کوششوں اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ملاقات میں صدر پزشکیان نے تہران کے مؤقف کو دہرایا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی عمل کے لیے ایران کی شرائط اور مطالبات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم رابطہ کاروں میں شامل رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا دورہ ان سابقہ رابطوں کا تسلسل ہے جن میں علاقائی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور وسیع تر سلامتی کے مسائل زیر بحث آئے تھے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد اسے اس بحران کے معاشی اور سکیورٹی اثرات سے براہ راست متاثر ہونے والے ممالک میں شامل کرتی ہے، اسی لیے اسلام آباد کشیدگی میں کمی اور رابطے بحال رکھنے پر زور دیتا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی مؤقف میں سختی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ثالثی کی کوششوں کے باوجود فوری طور پر باضابطہ امریکا ایران مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہوئی۔ ملاقات کو کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات کی بحالی کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا؛ دستیاب معلومات کے مطابق یہ سفارتی اور سکیورٹی رابطوں کا حصہ تھی۔
پاکستانی قیادت نے خطے میں جنگ اور توانائی کی رسد میں رکاوٹ کے اثرات پر بارہا تشویش ظاہر کی ہے۔ آبنائے ہرمز اور خلیجی راستوں میں کشیدگی پاکستان سمیت درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار تہران اور واشنگٹن کے مطالبات میں ممکنہ قربت اور پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک کی سفارتی کوششوں پر ہوگا۔
