یمن کے محصور شہر تعز اور گردونواح میں خاندانوں نے پینے کے پانی کی راشن بندی شروع کردی ہے، جبکہ سڑکوں پر جمع ہوتے کچرے اور صحت و صفائی کے بگڑتے حالات نے بیماریوں کے مزید پھیلاؤ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ستمبر سے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور ایران سے منسلک حوثی گروپ کے درمیان لڑائی نے اہم سپلائی راستوں کو متاثر کیا ہے، جس سے پانی، خوراک اور ایندھن کی قلت شدت اختیار کر گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے اداروں اور امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لڑائی اور ایندھن کی کمی نے ایسے آبی نظاموں تک رسائی اور پمپنگ کو متاثر کیا ہے جو تقریباً 30 لاکھ افراد کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ تعز کے بیشتر رہائشی ٹینکروں سے آنے والے پانی پر انحصار کرتے ہیں، مگر ایک اہم زیرزمین آبی ذریعے تک رسائی محدود ہونے اور ڈیزل کی قلت کے باعث پانی کی دستیابی مزید کم ہوگئی ہے۔ سیو دی چلڈرن کے مطابق شہر میں پانی کی پیداوار تقریباً 50 فیصد گر چکی ہے۔

یونیسیف کے نمائندے کے مطابق خاندان پینے کے پانی کو محدود مقدار میں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کے ایک ٹینکر کی قیمت حالیہ کشیدگی سے پہلے تقریباً 23 ہزار یمنی ریال تھی جو اب تقریباً 70 ہزار ریال تک پہنچ گئی ہے۔ بڑھتی قیمتیں اور رسد میں رکاوٹ کم آمدنی والے اور بے گھر خاندانوں پر خاص طور پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

دوسری جانب شہر کی بڑی سڑکوں پر کچرا جمع ہونے لگا ہے کیونکہ جھڑپوں کے باعث صفائی کا عملہ مرکزی ڈمپنگ مقام تک نہیں پہنچ پا رہا۔ تعز کے محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ کچرے کا یہ انبار سانس اور دیگر بیماریوں کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ستمبر کے آغاز سے ہیضے کے کیسز 221 سے بڑھ کر رواں ماہ 683 ہو گئے ہیں، جبکہ بعض اسپتالوں کو ادویات اور ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق حالیہ لڑائی سے بے گھر ہونے والے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد میں سے قریب نصف تعز گورنریٹ میں موجود ہیں۔ یونیسیف نے رواں سال تعز میں 52 ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کا شکار قرار دیا ہے، جبکہ سڑکوں کی بندش کے باعث شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے مخصوص خوراک کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔

تعز کی موجودہ صورت حال یمن کی طویل جنگ کے انسانی اثرات کا نیا مرحلہ ہے۔ بیماریوں، غذائی قلت اور پانی کی کمی سے متعلق اعداد امدادی اداروں اور اقوام متحدہ کی رپورٹوں پر مبنی ہیں؛ لڑائی کے فریق ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرتے رہے ہیں۔ فوری انسانی ترجیح محفوظ رسائی، پانی و ایندھن کی فراہمی، طبی مراکز کی فعالیت اور کچرے کی محفوظ تلفی بحال کرنا ہے۔