سینٹ پیٹرزبرگ: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کے دوران تجویز دی ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ چین میں ملاقات کر سکتے ہیں۔ روسی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق یہ تجویز سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی بات چیت میں سامنے آئی، جہاں دونوں جانب نے یوکرین جنگ اور امریکا۔روس تعلقات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وٹکوف کا دورہ ایسے وقت ہوا جب امریکا اور یوکرین کے نمائندوں نے ناروے میں یورپی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ امریکی حکام نے ان رابطوں میں یوکرین کے لیے مستقبل کی سلامتی ضمانتوں اور جنگ کے بعد اقتصادی انتظامات پر پیش رفت کی بات کی، تاہم کسی جامع امن معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
پیوٹن کی چین میں ملاقات کی تجویز بھی ابھی ایک تجویز ہے؛ وائٹ ہاؤس یا کریملن کی جانب سے ٹرمپ۔پیوٹن ملاقات کی حتمی تاریخ، مقام اور ایجنڈے کی مشترکہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اسے طے شدہ سربراہی اجلاس قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ دونوں صدور کے درمیان براہ راست ملاقات یوکرین جنگ کے سفارتی راستے کے لیے اہم سمجھی جائے گی، لیکن بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
ملاقات کے دوران روس نے ایک امریکی شہری، ریٹائرڈ استاد اسٹیفن ہبارڈ، کی رہائی کا بھی اعلان کیا۔ ان کی رہائی امریکا اور روس کے درمیان انسانی اور قونصلر معاملات پر جاری رابطوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ قیدیوں کی رہائی یا تبادلے ماضی میں بھی ایسے ادوار میں ممکن ہوئے ہیں جب دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان علاقائی کنٹرول، سکیورٹی ضمانتوں اور مستقبل کے فوجی انتظامات پر بڑے اختلافات موجود ہیں۔ کیف نے کسی بھی ایسے سمجھوتے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں جو اس کی خودمختاری یا دفاعی صلاحیت کو محدود کرے۔
چین ممکنہ ملاقات کے لیے سفارتی طور پر نمایاں مقام ہو سکتا ہے کیونکہ بیجنگ روس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور ساتھ ہی امریکا کے ساتھ بڑے اقتصادی اور تزویراتی روابط بھی رکھتا ہے۔ تاہم کسی سربراہی ملاقات کے عملی امکانات کا انحصار واشنگٹن اور ماسکو کی باقاعدہ منظوری اور یوکرین جنگ سے متعلق مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔
