ماسکو: روس نے امریکی شہری اسٹیفن جیمز ہبارڈ کو چار سال سے زائد عرصے کی حراست کے بعد رہا کر دیا ہے۔ 74 سالہ ہبارڈ امریکی ریاست مشی گن کے رہائشی اور ریٹائرڈ انگریزی استاد ہیں۔ ان کی رہائی ایسے دن ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کی۔
ہبارڈ یوکرین میں رہائش پذیر تھے اور روس۔یوکرین جنگ کے ابتدائی عرصے میں روسی حکام کی تحویل میں آئے تھے۔ روس میں ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی اور انہیں سزا سنائی گئی تھی۔ امریکی حکام اور ان کے خاندان نے ان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی تھی اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں۔
تازہ پیش رفت میں روسی جانب نے ہبارڈ کو رہا کیا، تاہم دستیاب معلومات میں رہائی کی تمام سفارتی شرائط یا یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ کسی باضابطہ قیدی تبادلے کا حصہ تھی۔ اس لیے اسے کسی مخصوص تبادلے یا خفیہ معاہدے سے جوڑنا سرکاری تصدیق کے بغیر درست نہیں ہوگا۔
امریکا اور روس کے درمیان شدید سیاسی تناؤ کے باوجود زیر حراست شہریوں کے معاملات پر محدود قونصلر اور سفارتی رابطے جاری رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک نے بعض قیدیوں کے تبادلے کیے، جن میں صحافی، سابق فوجی اور دیگر شہری شامل رہے۔ ایسے معاملات میں انسانی بنیادوں پر مذاکرات اکثر وسیع سیاسی اختلافات سے الگ چینل کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔
ہبارڈ کی رہائی اسی وقت سامنے آئی جب وٹکوف اور پیوٹن نے یوکرین جنگ اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔ پیوٹن نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ چین میں ممکنہ ملاقات کی تجویز بھی دی، تاہم اس سربراہی ملاقات کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔ ہبارڈ کی رہائی کو اس وسیع سفارتی رابطے کے ماحول میں ایک عملی انسانی پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔
رہائی کے بعد امریکی شہری کی واپسی، طبی معائنہ اور خاندان سے رابطے کے انتظامات معمول کے قونصلر طریقہ کار کا حصہ ہوں گے۔ ان کی صحت اور آئندہ سفر سے متعلق مکمل تفصیلات متعلقہ امریکی حکام یا خاندان کی جانب سے سامنے آنے پر زیادہ واضح ہوں گی۔

