دوشنبہ: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تجارت اور ادائیگیوں میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو تیز کریں اور علاقائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنے مالیاتی ادارے قائم کرنے کی سمت پیش رفت کریں۔ انہوں نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس سے خطاب کیا۔

ڈار نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام میں اتار چڑھاؤ، بیرونی جھٹکوں اور ادائیگیوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان مالی تعاون کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ قومی کرنسیوں میں تجارت کا زیادہ استعمال بعض لین دین میں تیسرے ملک کی کرنسی پر انحصار کم کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے بینکاری رابطے، قابل قبول تصفیہ نظام، شرح مبادلہ کے انتظام اور تجارتی توازن جیسے عملی مسائل حل کرنا ہوں گے۔

انہوں نے علاقائی ترقیاتی بینک یا دیگر مالیاتی انتظامات کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ انفراسٹرکچر، رابطہ کاری، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے طویل مدتی سرمایہ دستیاب ہو۔ ایس سی او میں اس نوعیت کے مالیاتی اداروں پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے، لیکن کسی نئے ادارے کا قیام رکن ملکوں کے اتفاق، سرمایہ فراہم کرنے کے فارمولے اور گورننس ڈھانچے سے مشروط ہوگا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے علاقائی امن اور اقتصادی ترقی کے باہمی تعلق پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سلامتی ضروری ہے اور افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینا پاکستان کی بنیادی توقع ہے۔ یہ مؤقف پاکستان کی جانب سے حالیہ علاقائی اجلاسوں میں مسلسل دہرایا گیا ہے۔

ڈار نے تجارت، ٹرانسپورٹ راہداریوں اور توانائی رابطوں کو ایس سی او خطے کی مشترکہ ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔ پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ زمینی اور بحری روابط بڑھانے کو اپنی علاقائی اقتصادی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے، جس میں پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی اور سڑک و ریل نیٹ ورک کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔

قومی کرنسیوں میں تجارت کی تجویز فی الحال سیاسی اور پالیسی سطح کی اپیل ہے، کوئی ایسا مشترکہ لازمی نظام نہیں جس کا نفاذ تمام رکن ممالک پر فوری ہو گیا ہو۔ عملی پیش رفت کے لیے مرکزی بینکوں، تجارتی بینکوں اور حکومتوں کے درمیان دوطرفہ یا کثیرملکی انتظامات درکار ہوں گے۔ اجلاس کے بعد جاری فیصلوں اور مستقبل کی تکنیکی بات چیت سے واضح ہوگا کہ ایس سی او اس تجویز کو کس رفتار سے آگے بڑھاتی ہے۔