روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت سینٹ پیٹرزبرگ میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس کے بعد روس، یوکرین اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان ایک نئے دور کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ممکنہ مذاکرات نومبر میں ابوظہبی میں ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی تاریخ اور تمام انتظامات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کئی بنیادی اختلافات کی وجہ سے رکی ہوئی تھیں۔ روس مشرقی یوکرین کے علاقوں سے متعلق اپنے مطالبات اور نیٹو کی مزید توسیع نہ ہونے کی ضمانت پر زور دیتا رہا ہے، جبکہ یوکرین اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قابل اعتماد سلامتی ضمانتوں کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ اس لیے مذاکرات کی بحالی پر آمادگی کو حتمی امن معاہدے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
پیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات کے موقع پر روس نے زیر حراست ایک امریکی شہری کو بھی رہا کیا، جسے سفارتی خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یوکرین اور روس دونوں پر جنگ کے سیاسی حل کے لیے دباؤ ڈالتی رہی ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی سہ فریقی ملاقات کے امکان کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیٹلائٹ سہولتوں سے متعلق تناؤ بھی سامنے آیا ہے۔ یہ عوامل کسی بھی نئے مذاکرات کے ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب روس کے لیے علاقائی مطالبات اور مغربی فوجی اتحاد سے متعلق سکیورٹی شرائط بدستور اہم ہیں، جبکہ کیف ایسی کسی ترتیب سے گریز چاہتا ہے جو اس کی دفاعی خودمختاری محدود کرے۔
مذاکرات کی ممکنہ بحالی کے عالمی معاشی اثرات بھی زیر نظر ہیں۔ روس-یوکرین جنگ نے توانائی، اناج، جہاز رانی اور پابندیوں کے نظام پر وسیع اثرات مرتب کیے ہیں، اس لیے حقیقی جنگ بندی یا پائیدار سیاسی پیش رفت عالمی منڈیوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم صرف مذاکرات پر رضامندی سے پابندیاں یا جنگی کارروائیاں خودکار طور پر ختم نہیں ہوتیں۔
فی الحال اہم پیش رفت یہ ہے کہ ماسکو نے امریکی ثالثی کے تحت مذاکراتی عمل میں دوبارہ شامل ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ کسی حتمی معاہدے، جنگ بندی، سرحدی تصفیے یا سکیورٹی ضمانتوں کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوا، اور ان نکات پر فریقین کے مؤقف میں نمایاں فرق موجود ہے۔
