ابوجا: نائجیریا نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد ایبولا وائرس کے پہلے تصدیق شدہ کیس کی اطلاع دی ہے، جبکہ طبی حکام کے مطابق مریضہ میں بنڈی بگیو قسم کی شناخت ہوئی ہے جو افریقہ میں جاری موجودہ وبا سے منسلک ہے۔ یہ کیس مغربی افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں سامنے آنے کے باعث علاقائی سطح پر نگرانی اور رابطہ تلاش کرنے کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

رائٹرز کے مطابق مریضہ یوگنڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہے جو اکتوبر کے اوائل میں ادیس ابابا کے راستے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا پہنچی۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کی طبی جانچ کی گئی اور ایبولا کی تصدیق ہوئی۔ نائجیریا کے صحت حکام نے مریضہ کو الگ تھلگ کرکے علاج شروع کر دیا ہے۔ حکام نے اس سے رابطے میں آنے والے کم از کم 44 افراد کی شناخت کی ہے، جن میں طبی کارکن اور قریبی رابطے شامل ہیں، جبکہ متعلقہ فضائی سفر کے مسافروں کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔

نائجیریا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے حوالے سے ڈان نے رپورٹ کیا کہ وائرس کی قسم بنڈی بگیو ہے۔ یہی قسم جمہوریہ کانگو میں جاری بڑے پھیلاؤ سے وابستہ بتائی گئی ہے۔ افریقہ کے دوسرے ممالک میں بھی اس وبا سے متعلق کیس سامنے آ چکے ہیں، جس سے سرحد پار بیماری کے پھیلاؤ اور تاخیر سے تشخیص کے خطرات پر تشویش بڑھی ہے۔

نائجیریا کے حکام نے 2014 کی وبا کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگرانی، رابطہ تلاش کرنے اور انفیکشن کنٹرول کے نظام فعال کیے گئے ہیں۔ تاہم کسی ایک کیس کی موجودگی سے وسیع مقامی پھیلاؤ خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔ وبائی صورتحال کا تعین مزید ٹیسٹنگ، رابطوں کی نگرانی اور نئے کیسز کے سامنے آنے یا نہ آنے سے ہوگا۔

بنڈی بگیو ایبولا کے لیے دستیاب طبی وسائل محدود ہیں اور اس قسم کے خلاف منظور شدہ مخصوص ویکسین یا علاج کی عدم موجودگی نے صحت حکام کے لیے چیلنج بڑھایا ہے۔ اسی وجہ سے ابتدائی شناخت، مریض کو الگ رکھنا، حفاظتی تدابیر اور ممکنہ رابطوں کی فوری نگرانی بنیادی اقدامات سمجھے جا رہے ہیں۔ نائجیریا میں اس کیس کی تصدیق افریقی صحت اداروں کے لیے علاقائی تعاون اور مسافروں کی نگرانی کی اہمیت مزید بڑھاتی ہے۔