اسلام آباد: پاکستان نیوی نے کہا ہے کہ اس کے دو اہلکار سمندر میں سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے گشت کی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ بحریہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز کے بیان کے مطابق شہید اہلکاروں کی شناخت شعیب الرحمن (پی ایم اے-فور) اور غفران ناصر (پی ایم ٹی-ٹو) کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈان کی 9 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی پی آر نیوی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ دونوں اہلکار سمندر میں پٹرولنگ ڈیوٹی کے دوران جان سے گئے۔ بیان میں واقعے کی درست جگہ، وقت، کسی حادثے یا حملے کی نوعیت، جہاز یا پلیٹ فارم اور دیگر آپریشنل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے دستیاب معلومات سے موت کی مخصوص وجہ یا واقعے کے حالات کے بارے میں مزید نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے دونوں اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ بحریہ کے مطابق سینئر نیول حکام نے شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ سرکاری بیان نے ان کی خدمات کو سمندری سکیورٹی کی ذمہ داری سے جوڑا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت رپورٹ ہوا ہے جب پاکستان نیوی نے رواں سال مارچ میں علاقائی سمندری ماحول میں بڑھتے خطرات کے تناظر میں آپریشن محافظ البحر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بحریہ نے اس وقت کہا تھا کہ آپریشن کا مقصد قومی جہاز رانی اور بحری تجارت کو درپیش متعدد نوعیت کے خطرات کا مقابلہ کرنا اور اہم سمندری راستوں کو محفوظ اور فعال رکھنا ہے۔ یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں سمندری راستوں کے ممکنہ تعطل کے خدشات کے پس منظر میں سامنے آیا تھا۔

پاکستان اپنی بیرونی تجارت کے بہت بڑے حصے کے لیے سمندری راستوں پر انحصار کرتا ہے۔ بحریہ کے مطابق تقریباً 90 فیصد قومی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے تجارتی جہاز رانی، بندرگاہی رسائی اور اہم سی لینز کی حفاظت قومی معاشی و سلامتی منصوبہ بندی کا اہم حصہ ہے۔ تاہم موجودہ واقعے کو آپریشن محافظ البحر کے کسی مخصوص مشن یا دشمن کارروائی سے جوڑنے کی سرکاری تصدیق دستیاب نہیں۔

فی الحال تصدیق شدہ معلومات اتنی ہیں کہ پاکستان نیوی نے دو اہلکاروں کی سمندری گشت کے دوران شہادت کی اطلاع دی، ان کے نام جاری کیے اور نیول چیف کی جانب سے تعزیت کا بیان سامنے آیا۔ واقعے کی مزید عملی یا تفتیشی تفصیلات جاری ہونے کی صورت میں ہی اس کے سبب اور حالات کی واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔