برطانیہ کے وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان اسٹیفن ڈوٹی نے پاکستان کا اپنا دورہ مکمل کر لیا ہے، جس کے دوران اقتصادی ترقی، تجارت، علاقائی سلامتی، تعلیم، نقل مکانی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر بات چیت کی گئی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق بدھ کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسٹیفن ڈوٹی نے پاکستان کے سینئر سیاسی اور حکومتی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات، کاروباری روابط، افغانستان میں استحکام، خطے میں کشیدگی کے خطرات کم کرنے اور سکیورٹی تعاون کو آگے بڑھانے کے امکانات زیرِ بحث آئے۔

برطانوی وزیر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ سے بھی ملاقات کی۔ بیان کے مطابق ان ملاقاتوں میں تجارت اور ترقی کے ساتھ علاقائی سکیورٹی، افغانستان کی صورت حال اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسٹیفن ڈوٹی نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تاریخی تعلقات دونوں ملکوں کے عوام، کاروباری اداروں اور مختلف اداروں کے روابط پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق ان کا دورہ انہی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ایسے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے پر مرکوز رہا جن کا فائدہ دونوں ملکوں کے لوگوں کو پہنچ سکتا ہے۔

تعلیم بھی دورے کا ایک اہم موضوع رہی۔ برطانوی وزیر نے پاکستانی اور برطانوی تعلیمی رہنماؤں کے ساتھ دونوں ملکوں کی جامعات کے درمیان تعاون کے اگلے مرحلے پر بات کی۔ اس میں برطانوی تعلیمی قابلیت تک رسائی بڑھانے اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ و ریاضی، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے کے امکانات شامل تھے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈوٹی نے سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی اور انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں سے متعلق برطانوی موقف کا اعادہ کیا۔ دورے کے دوران جن موضوعات پر بات ہوئی، ان کے بارے میں کسی نئے باضابطہ معاہدے یا مالی پیکیج کے اعلان کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے اس دورے کی تصدیق شدہ پیش رفت کو فی الحال مذاکرات اور تعاون کے عزم تک محدود سمجھا جانا چاہیے۔