کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روس بھی عملی طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرے تو یوکرین اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کے باہمی تعطل سمیت ڈی اسکیلیشن کے اقدامات کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے روس اور یوکرین سے توانائی اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے روکنے کی کوششیں تیز کی ہیں۔

زیلنسکی نے اپنے روزانہ ویڈیو خطاب میں امریکی تجویز کو اہم قرار دیا اور کہا کہ اگر روس یوکرین کے اہم انفراسٹرکچر پر حملے روکتا ہے اور جواب میں یوکرین بھی روسی اہداف پر ایسے حملے روکتا ہے تو یہ کشیدگی میں کمی کا پہلا قدم بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیف کی آمادگی روس کے باہمی اقدام سے مشروط ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ کیف اور ماسکو توانائی کے اہداف پر حملے نہ کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ زیلنسکی نے بھی مکمل اتفاق رائے کا اعلان کرنے کے بجائے کہا کہ اگر واشنگٹن روس سے حقیقی اور دیرپا آمادگی حاصل کرتا ہے تو یوکرین اپنی طرف سے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرے گا۔

یوکرینی صدر نے ساتھ ہی ماسکو کی نیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیف کو اب تک جنگ ختم کرنے کے لیے روس کی حقیقی خواہش نظر نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس کی جنگی معیشت کے خلاف یوکرینی حملوں نے دباؤ پیدا کیا ہے، اس لیے کسی بھی تعطل کا مطلب صرف یوکرین کی یک طرفہ کارروائی روکنا نہیں بلکہ دونوں جانب سے قابل تصدیق پابندی ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں روسی ڈیزل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں پر بھی تنقید کی ہے اور عالمی ایندھن قیمتوں میں اضافے کو روس یوکرین جنگ سے جوڑا ہے۔ واشنگٹن کی موجودہ کوشش کا مرکز اہم توانائی تنصیبات پر باہمی حملوں کو روک کر ایک محدود عملی سمجھوتے کی بنیاد بنانا دکھائی دیتا ہے، اگرچہ فریقین کے درمیان وسیع جنگ بندی یا سیاسی تصفیے پر اختلافات برقرار ہیں۔

روس یوکرین جنگ میں بجلی گھروں، گرڈ، ایندھن ذخائر اور ریفائنریوں پر حملوں نے دونوں ملکوں کے معاشی اور شہری نظام پر شدید اثر ڈالا ہے۔ اس لیے توانائی اہداف پر ممکنہ باہمی توقف کو مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ اعتماد سازی اور انسانی و معاشی نقصان کم کرنے کے ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اگلا اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا امریکا دونوں فریقوں سے کسی تحریری، قابل نگرانی یا متفقہ طریقہ کار پر رضامندی حاصل کر پاتا ہے۔ فی الحال یوکرین کی جانب سے آمادگی مشروط ہے اور روس کی طرف سے اسی سطح کی باقاعدہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔