کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر 12 اکتوبر کو کہا ہے کہ ان کا ملک روس کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے مطابق ماسکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی یوکرین کے اہم مقامات پر حملے جاری رکھے۔ یہ مؤقف یوکرینی صدر کا بیان ہے، جبکہ روس کی جانب سے مجوزہ جنگ بندی میں شرکت کی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زیلنسکی نے پولینڈ میں وارسا سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد خارکیف میں ایک بجلی گھر، گیس پیدا کرنے کی تنصیب اور ایک شہری گیس اسٹیشن پر حملے ہوئے۔ انہوں نے اس صورت حال کو حیران کن قرار دیا اور کہا کہ یوکرین روسی توانائی کے اہداف پر حملے روکنے کی پابندی کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ روس بھی ایسا کرے۔
بعد ازاں امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں یوکرینی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت اتوار کے اعلان کے بعد سے روس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کررہی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں محدود جنگ بندی وسیع تر امن عمل کی جانب ایک ابتدائی قدم ہوسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے اس انتظام کی پابندی پر شکوک کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ فریقین توانائی کے اہداف پر حملے روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ لیکن کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روس کی جانب سے اس نوعیت کے معاہدے میں شمولیت کی تصدیق نہیں کی۔ اس فرق کی وجہ سے اعلان کو دونوں فریقوں کے درمیان مکمل طور پر نافذ اور تصدیق شدہ جنگ بندی سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے بھی محدود انتظام کے بارے میں احتیاط کا اظہار کیا اور شہریوں کے تحفظ سمیت وسیع تر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ یوکرینی حکام نے تازہ حملوں میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات بھی دیں، جبکہ روس نے یوکرینی بندرگاہوں کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔ متحارب فریقوں کے فوجی دعووں کی آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں دستیاب نہیں۔
چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ میں توانائی کی تنصیبات پر حملے بجلی، گیس اور شہری زندگی پر سنگین اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ موجودہ اختلاف اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی محدود جنگ بندی کی کامیابی کے لیے صرف سیاسی اعلان نہیں بلکہ دونوں حکومتوں کی واضح رضامندی اور زمینی سطح پر قابل تصدیق عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
