ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتوار کو ہونے والے تازہ حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہو گئے۔ ڈان کی 11 اکتوبر کو شائع اور 12 اکتوبر 2026 کو اپ ڈیٹ کی گئی رپورٹ کے مطابق سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے ہلاکت اور زخمیوں کی تصدیق کی۔ یہ واقعہ ایک روز قبل ایئرپورٹ پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں حکام نے پروازوں کی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔
یمن کے حوثی گروپ نے اتوار کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل تھا۔ بعد ازاں سعودی قیادت میں لڑنے والے اتحاد نے بتایا کہ ایک پروجیکٹائل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ اتحاد کے مطابق قریبی علاقے میں ایک میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔ حملے کی تفصیلات سعودی حکام اور اتحاد کے بیانات سے منسوب ہیں؛ اس رپورٹ میں جائے وقوعہ کی آزادانہ تکنیکی جانچ کا نتیجہ شامل نہیں۔
ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک 24 گھنٹے کی توسیع کی اطلاع دی گئی۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 نے بتایا کہ آپریشنز مقامی وقت کے مطابق مزید معطل رہیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام کے ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ حوثیوں نے کیا، جبکہ اتحاد نے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون مار گرانے کی اطلاع دی۔ پیر کی صبح اتحاد نے خمیس مشیط کی جانب بڑھنے والے حوثی بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
حالیہ حملے ریاض اور دیگر اہم مقامات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہوئے ہیں۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں 2015 سے حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ دوسری جانب حوثی گروپ نے سعودی عرب کے نقل و حمل کے مراکز کو مزید نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والے پہلے حملے میں سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی کے مطابق متعدد ممالک کے شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد عالمی سطح پر مذمت سامنے آئی۔
پاکستانی شہری کی ہلاکت کے حوالے سے دستیاب رپورٹ میں نام، عمر یا ملازمت کی تفصیل نہیں دی گئی۔ پاکستانی سفارتی حکام کی جانب سے متاثرہ خاندان کی معاونت یا میت کی واپسی کے انتظامات کی تازہ تفصیل بھی اس خبر میں شامل نہیں۔ اسی طرح اتوار کے حملے میں زخمی ہونے والے 11 افراد کی قومیتوں اور طبی حالت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان تفصیلات کی تصدیق متعلقہ سعودی حکام اور پاکستانی سفارتی مشن کی جانب سے مزید بیان کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
ایئرپورٹ پر حملوں اور آپریشنز کی معطلی سے شہری ہوابازی، مسافروں کی آمدورفت اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سعودی اتحاد نے حملوں کے جواب میں سخت کارروائی کی بات کی ہے، جبکہ حوثیوں نے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ کشیدگی کی تیز رفتار پیش رفت کے باعث مختلف فریقوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو سکتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ بنیادی معلومات یہ ہیں کہ اتوار کے حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے، اور ایئرپورٹ کی بندش میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کی گئی۔
