کیف: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 11 اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے روکنے پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے۔ تاہم اعلان کے وقت دونوں متحارب ملکوں کی جانب سے اس بات کی مشترکہ، واضح تصدیق سامنے نہیں آئی تھی کہ عملی جنگ بندی کی شرائط اور نگرانی کے انتظامات طے پاچکے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ دونوں فریق ایک توانائی جنگ بندی پر متفق ہیں۔ ان کے اعلان میں اس کے دورانیے، خلاف ورزی کی صورت میں ردعمل، یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے نگرانی کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ اس پیش رفت کی تفصیلات کے منتظر ہیں۔ ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے بتایا کہ ٹرمپ کی پوسٹ سے پہلے انہیں اس مفاہمت کا علم نہیں تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے حوالے سے رپورٹ میں یوکرین کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اگر روس بھی اس نوعیت کی جنگ بندی پر متفق ہو تو یوکرین اس کے لیے تیار ہے۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیف اصولی طور پر توانائی اہداف پر حملوں کے باہمی خاتمے پر بات کرسکتا ہے، لیکن اسے یک طرفہ طور پر اپنی کارروائیاں روکنے کے اعلان کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

زیلنسکی اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملے اسی صورت روکے جاسکتے ہیں جب روس یوکرین کے بجلی اور توانائی کے نظام پر حملے بند کرے۔ ان کے مطابق کسی بھی بندوبست کے ساتھ حقیقی ضمانتیں ضروری ہیں۔ اعلان کے فوری بعد روس کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا تھا، اس لیے جنگ بندی کے نافذ ہونے کا آزادانہ تعین ممکن نہیں تھا۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے توانائی کے شعبے میں حقیقی جنگ بندی کی حمایت کی جبکہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن نے یوکرین کے ایسے مطالبے کی تائید کی جو توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی غذائی رسد کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ان بیانات کو ٹرمپ کے دعوے کی مکمل تصدیق کے بجائے ممکنہ انتظام کی حمایت سمجھنا چاہیے۔

ڈان نے 12 اکتوبر کو خبر دی کہ ستمبر میں بھی اس نوعیت کے امریکی اعلان کے باوجود فریقین کی طرف سے باقاعدہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ موجودہ صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا روس اور یوکرین تحریری یا واضح عملی شرائط پر متفق ہوپاتے ہیں اور میدان جنگ میں حملوں کی صورتحال اس دعوے سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔