نیویارک: امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نمایاں کرنے والے ان ٹیلی ویژن اشتہارات پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے جن کے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جا رہے تھے۔ 11 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والے عدالتی حکم میں جج جینیفر روچون نے انتظامیہ کو ٹیکس دہندگان کے فنڈز سے ان اشتہارات کی ادائیگی سے روکا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس معاملے پر نگران تنظیم کامن کاز اور دیگر درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ ستمبر کے آخر سے نشر ہونے والے اشتہارات عام شہریوں کی معلومات کے لیے تیار کردہ سرکاری پیغامات نہیں بلکہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ری پبلکن امیدواروں کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی کوشش ہیں۔ یہ الزامات مقدمے میں اٹھائے گئے ہیں اور انہیں کسی حتمی عدالتی فیصلے میں جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
نیویارک کی وفاقی جج نے حکم جاری کر کے اشتہارات کی سرکاری مالی معاونت عارضی طور پر روک دی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق انتظامیہ نے اس حکم سے پہلے ہی اشتہارات کی نشریات بند کرنے کی منصوبہ بندی ظاہر کی تھی۔ اس لیے حکم کا عملی اثر اور آئندہ عدالتی کارروائی الگ معاملات ہیں۔ عدالت کے تازہ حکم کو مقدمے کے حتمی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اشتہارات پر اعتراضات کئی دنوں سے جاری تھے۔ ناقدین کے مطابق صدر کی تعریف پر مبنی مواد کے لیے حکومتی وسائل استعمال کرنا عام سرکاری آگاہی اور سیاسی مہم کے درمیان حد کو دھندلا کرتا ہے۔ درخواست گزار چاہتے تھے کہ اشتہارات ہفتے کے آخر میں نشر ہونے والے مقبول پروگراموں، کھیلوں کے مقابلوں اور دیگر اوقات میں مزید نہ چلائے جائیں۔
صدر ٹرمپ نے ان اشتہارات کو امریکا کی مثبت تشہیر قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق آئندہ اس نوعیت کی تشہیر کے اخراجات ٹرمپ سے وابستہ سیاسی ایکشن کمیٹی ماگا پی اے سی برداشت کرے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیاسی کمیٹی پہلے نشر ہو چکے اشتہارات کے اخراجات ٹیکس دہندگان کو واپس نہیں کرے گی۔ اشتہارات کے اختتام پر ان کی سرکاری فنڈنگ کا اعلان بھی شامل تھا۔
کامن کاز کی سربراہ ورجینیا کیس سولومون نے عدالتی اقدام کے بعد کہا کہ ان کی تنظیم حکومتی فنڈز کے استعمال پر جواب دہی کا مطالبہ جاری رکھے گی۔ اس معاملے پر ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے واشنگٹن کی ایک علیحدہ وفاقی عدالت میں بھی مقدمہ دائر کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے تازہ عدالتی حکم پر فوری تبصرہ دستیاب نہیں ہوا۔
یہ تنازع امریکا میں انتخابی مہم، حکومتی تشہیر اور عوامی وسائل کے استعمال کے ضابطوں سے متعلق اہم قانونی سوالات اٹھاتا ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت صرف عارضی عدالتی پابندی اور انتظامیہ کے اشتہارات کے لیے آئندہ غیر سرکاری فنڈ استعمال کرنے کے بیان تک محدود ہے۔
