نئی دہلی: بھارت میں انتخابی فہرستوں پر تنازع اور احتجاجی کارکنوں کی گرفتاریوں کے درمیان نوجوانوں کی آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھجیت دپکے سمیت تین رہنماؤں کو اتوار 11 اکتوبر 2026 کو رہا کر دیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گروپ کی وکیل رتنا سنگھ نے بتایا کہ ایک ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت نے رہائی کی منظوری دی اور شرط عائد کی کہ تینوں رہنما ایک سال تک امن میں خلل ڈالنے سے گریز کریں۔

ان رہنماؤں کو ہفتے کے روز نئی دہلی میں ایک بڑے احتجاج سے پہلے حراست میں لیا گیا تھا۔ گروپ کے مطابق ابھجیت دپکے اور دو ساتھی ممبئی سے طیارے کے ذریعے دارالحکومت پہنچے تھے، جہاں انہیں ہوائی سفر کے اختتام پر حراست میں لیا گیا۔ اے ایف پی کے نمائندوں نے دپکے کو رہائی کے بعد عدالت سے باہر آتے اور گاڑی میں روانہ ہوتے دیکھا۔ رہائی کے فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ انتخابی فہرستوں سے متعلق بنیادی سیاسی تنازع حل ہو گیا ہے۔

احتجاج کا مقصد بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کرنا تھا۔ یہ مطالبہ ووٹر فہرستوں پر ملک گیر نظرثانی اور اس دوران ناموں کے اخراج کے بارے میں اعتراضات کے پس منظر میں سامنے آیا۔ بعض میڈیا رپورٹس میں نظرثانی کے نتیجے میں 13 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ نام فہرستوں سے نکالے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ تعداد میڈیا رپورٹس سے منسوب ہے، جبکہ اخراج کی قانونی حیثیت اور اس کے انفرادی اثرات کے بارے میں یکساں اور آزاد نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ فہرستوں کی جانچ کا مقصد دہری اندراجات، فوت شدہ افراد اور جعلی ریکارڈ کی اصلاح تھا۔ دوسری جانب ناقدین نے الزام لگایا کہ یہ عمل خاص طور پر اقلیتوں اور مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر سکتا ہے اور اس سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے بے ضابطگی کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ اس طرح الزامات اور سرکاری تردید کو الگ الگ مؤقف کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

احتجاجی گروپ اور بعض بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے دارالحکومت میں اجتماعات روکنے کے لیے متعدد کارروائیاں کیں۔ گروپ نے ہزاروں افراد کی حراست کا دعویٰ کیا، تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے انسانی حقوق نے نئی دہلی میں من مانے انداز میں حراست میں لیے گئے افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور احتجاجی تحریک کے نمائندوں نے کارروائی کے باوجود مظاہرے جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ گاندھی نے کہا کہ نوجوان اور طلبہ دوبارہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر آئیں گے۔ نئی دہلی کے اس واقعے نے ووٹر رجسٹریشن کے انتظام، پرامن احتجاج کے حق اور ریاستی کارروائیوں کے بارے میں سیاسی بحث کو مزید نمایاں کیا ہے۔ حراست سے رہا ہونے والے تین رہنماؤں کی قانونی صورت حال تو واضح ہو گئی ہے، مگر فہرستوں کی نظرثانی اور اس کے اثرات سے متعلق اختلافات برقرار ہیں۔