پاناما سٹی: وسطی امریکی ملک پاناما میں جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو یکے بعد دیگرے دو شدید زلزلے آئے جن کی شدت بالترتیب 7.7 اور 6.6 ریکارڈ کی گئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زلزلوں کا مرکز ہیریرا صوبے کے علاقے پیتالوزا اریبا کے قریب تھا اور بعد میں 45 سے زیادہ آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔ جھٹکوں کی وجہ سے متعدد آبادیوں میں شہری گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے جبکہ انتظامیہ نے حفاظتی انخلا کی ہدایات دیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق وسطی صوبوں ہیریرا، ویراگواس اور لاس سانتوس میں بعض عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ تاریخی سان اتاناسیو چرچ کے حصے کے منہدم ہونے کی اطلاع بھی دی گئی، جبکہ پینونومے میں چند سرکاری عمارتوں کو نقصان رپورٹ ہوا۔ حکام نے زخمیوں کی اطلاعات کا ذکر کیا لیکن جمعہ کی شام تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔ یہ صورتحال ابتدائی جائزوں پر مبنی ہے اور مکمل نقصان کا حساب بعد کی جانچ میں واضح ہونا تھا۔

زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ بھی جاری کی گئی، تاہم متعلقہ حکام نے بعد میں اسے واپس لے لیا۔ ملک کے بڑے توکومین بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی سرگرمی عارضی طور پر روکی گئی اور پھر بحال کردی گئی۔ دستیاب خبر میں بتایا گیا کہ پاناما نہر کے کام کو زلزلے سے نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی اور اس کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔ یہ تفصیلات شہری اور تجارتی بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے اہم ہیں کیونکہ پاناما نہر عالمی بحری تجارت کا ایک بڑا راستہ ہے۔

صدر خوسے راؤل مولینو نے شہریوں کو پرسکون رہنے کی اپیل کی اور نقصان کے تخمینے اور امدادی اقدامات کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ہمسایہ ممالک کی طرف سے تعاون کے پیغامات آئے اور امریکہ نے بھی مدد کی پیش کش کی۔ ماہرین کے مطابق پاناما کا خطہ بحرالکاہل کے اس زلزلہ خیز حصے میں واقع ہے جہاں زمینی پلیٹوں کی حرکت اکثر جھٹکوں کا سبب بنتی ہے۔

قدرتی آفت کے بعد حکام کے لیے اہم ترجیحات متاثرہ عمارتوں کی حفاظت جانچنا، زخمیوں تک طبی امداد پہنچانا اور مسلسل آفٹر شاکس سے ممکنہ خطرات کی نگرانی کرنا ہیں۔ بڑے شہروں میں تعمیراتی قواعد کی پابندی نے ماضی میں عمارتوں کی مزاحمت بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے، لیکن کسی مخصوص عمارت کے محفوظ ہونے کا فیصلہ صرف معائنے کے بعد ہوسکتا ہے۔ شہریوں کو سرکاری ہدایات کے مطابق متاثرہ ڈھانچوں سے دور رہنے اور مستند معلومات پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔