واشنگٹن: روسی ڈیزل کی عالمی منڈی میں دوبارہ فراہمی سے متعلق امریکی فیصلے نے امریکا اور یوکرین کے درمیان سفارتی اختلافات میں شدت پیدا کر دی ہے۔ رائٹرز کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے انتظام اور امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کا دفاع کیا، جبکہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس اقدام کو روس پر معاشی دباؤ کم کرنے کے مترادف قرار دیا۔

امریکی حکومت کا موقف ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے ایندھن کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے رسد بڑھانا ضروری ہے۔ روسی ڈیزل کی برآمدات سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی اسی وسیع تر پالیسی کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف یوکرین کا کہنا ہے کہ روس پر عائد معاشی پابندیاں کم کرنے سے یوکرین میں جاری جنگ کے تناظر میں ماسکو کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دونوں حکومتیں فیصلے کے ممکنہ نتائج کو مختلف انداز سے دیکھ رہی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انہیں تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور یوکرین کے لیے امن معاہدہ حاصل نہ کر سکنے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر یوکرین کے حملوں کے بارے میں بھی تنقیدی موقف اختیار کیا۔ یہ بیانات امریکی صدر کی سیاسی پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں؛ یوکرین کے آئینی یا انتخابی عمل پر ان کا بذات خود کوئی قانونی اثر ثابت نہیں ہوتا۔

یوکرینی صدر نے روسی حملوں کے نتیجے میں شہری جانی نقصان کا حوالہ دے کر سوال کیا کہ ایسے حالات میں پابندیوں میں نرمی کیا پیغام دیتی ہے۔ زاپوریژیا اور دوسرے علاقوں میں روسی حملوں سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات کے درمیان یہ سفارتی تنازع مزید حساس ہو گیا ہے۔ برطانیہ کی قیادت نے روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی حمایت کی، جبکہ امریکا کے اندر بھی ڈیزل معاہدے کے بارے میں تنقید سامنے آئی۔

عالمی توانائی کی منڈی میں محدود مدت کی پابندیوں میں نرمی کے اثرات کا حتمی تخمینہ ابھی ممکن نہیں۔ روسی برآمدات کی مقدار، ترسیل کا وقت اور دیگر ممالک کی خریداری جیسے عوامل آئندہ قیمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کے دعوے اور واقعی طے پانے والا معاہدہ الگ معاملات ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت امریکی پالیسی میں تبدیلی اور اس پر یوکرینی و بین الاقوامی ردعمل ہے۔