اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے تازہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے 11 اکتوبر کو جاری بیان میں اس کارروائی کو شہری ہوائی اڈے کے خلاف حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس نوعیت کے واقعات علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستانی بیان میں حملے کی ذمہ داری حوثی ملیشیا پر عائد کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کو حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور زخمیوں سے متعلق اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ بیان میں کسی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی غیر مصدقہ عدد پیش نہیں کیا جارہا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ شہری آبادی اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی واضح مذمت کرنی چاہیے۔ ترجمان نے زور دیا کہ شہریوں کی سلامتی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو مقدم رکھا جائے۔ ان کے مطابق ہوائی اڈوں جیسی شہری سہولتوں پر حملوں کے اثرات مسافروں، شہری خدمات اور وسیع تر علاقائی استحکام تک پہنچ سکتے ہیں۔

پاکستانی ترجمان نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع اور اس سے متعلق اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے حق کی حمایت بھی کی۔

بیان میں حوثی گروہ سے حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ رپورٹ پاکستان کے سرکاری مؤقف کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے؛ حملے کے مکمل حالات، ممکنہ جانی نقصان اور متعلقہ فریقوں کے الگ الگ دعووں کی آزادانہ تصدیق اس ماخذ سے ممکن نہیں۔ دفتر خارجہ کے بیان میں پیش کردہ الزامات کو اسی نسبت سے بیان کرنا ضروری ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں شہریوں اور اہم تنصیبات کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔