پاناما سٹی: وسطی امریکی ملک پاناما میں 9 اکتوبر 2026 کو آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد حکومت نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق شدید جھٹکوں اور اس کے بعد متعدد آفٹر شاکس سے مختلف صوبوں میں عمارتوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام نے کم از کم 27 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، تاہم دستیاب سرکاری تفصیلات میں کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
زلزلے کا مرکز ملک کے جنوبی حصے میں صوبہ ہیریرا کے قریب بتایا گیا۔ امریکی ارضیاتی سروے نے شدت 7.7 ریکارڈ کی، جب کہ اس کے بعد 6.6 شدت کا ایک اور بڑا جھٹکا اور سو سے زائد چھوٹے جھٹکے بھی رپورٹ ہوئے۔ شدید لرزش کے باعث متعدد علاقوں میں شہری عمارتوں سے باہر نکل آئے اور بعض مقامات پر احتیاطی انخلا کیا گیا۔ دارالحکومت پاناما سٹی تک جھٹکے محسوس کیے گئے۔
حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں ویراگواس، ہیریرا، کوکلے اور لاس سانتوس شامل ہیں۔ ابتدائی نقصانات کے جائزے میں سیکڑوں گھروں اور اسکولوں کو نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی۔ بعض پلوں، مذہبی و تاریخی عمارتوں اور ہوٹلوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ لاس سانتوس میں تاریخی چرچ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ ان اعداد کی حیثیت ابتدائی تخمینوں کی ہے اور امدادی کارروائیوں کے دوران ان میں تبدیلی ممکن ہے۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امداد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کیے۔ ٹوکومن بین الاقوامی ہوائی اڈے کی پروازوں میں عارضی رکاوٹ آئی لیکن بعد میں سرگرمیاں بحال ہونے کی اطلاعات ملیں۔ عالمی تجارت کے لیے اہم پاناما کینال زلزلے کے بعد بھی فعال رہی، جو ملکی تجارت اور بین الاقوامی بحری راستوں کے لیے اہم خبر ہے۔
پاناما کے صدر خوسے راؤل مولینو کی حکومت کو اب امدادی ضروریات، تباہ شدہ عمارتوں کے جائزے اور متاثرہ آبادی کو محفوظ رہائش کی فراہمی جیسے چیلنج درپیش ہیں۔ امریکا اور دیگر ممالک نے مدد کی پیشکش کی ہے۔ ماہرین کے مطابق زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں کے دوران متاثرہ اور کمزور ڈھانچوں سے دور رہنا ضروری ہے۔ نقصان اور متاثرہ افراد کی مکمل تعداد کا فیصلہ بعد کی سرکاری جانچ اور امدادی جائزوں کی بنیاد پر ہوگا۔
