نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت میں 11 اکتوبر کو نوجوانوں کی جانب سے مسلسل دوسرے روز احتجاج کی تیاری اور مظاہروں کے باعث سیاسی تناؤ برقرار رہا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق احتجاج کرنے والے گروہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کا بنیادی اعتراض حالیہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار اور اس کے ممکنہ سیاسی اثرات سے متعلق ہے۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹروں کی فہرست میں تبدیلیاں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں جا سکتی ہیں اور متعدد اہل ووٹر ان کے حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ بعض احتجاجی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان اعداد کو تصدیق شدہ انتخابی نتائج یا کسی غیر جانب دار جانچ کی حتمی دریافت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ انتخابی حکام کے طریقہ کار اور احتجاجی حلقوں کے الزامات میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

رائٹرز کے مطابق مظاہروں سے منسلک ایک گروہ کو کاکروچ تحریک کے نام سے بھی پکارا جا رہا ہے۔ اس سے وابستہ کارکنان نے نئی دہلی میں بڑے احتجاج کی کال دی، جبکہ پولیس نے شہر کے مرکزی حصوں میں نقل و حرکت اور اجتماعات کے حوالے سے سخت اقدامات کیے۔ 10 اکتوبر کو مظاہرین کے بعض نمایاں رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا اور بعد میں پابندیاں عائد کر کے رہا کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ حکام کی کارروائیوں کے بارے میں رپورٹ میں دو ہزار سے زائد افراد کی عارضی حراست کا ذکر بھی آیا۔

احتجاجی تحریک کو حزب اختلاف کے حلقوں اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں کی حمایت یا توجہ حاصل ہوئی ہے۔ دوسری جانب بھارتی سرکاری حکام نے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اس معاملے میں تبصرے پر اعتراض کیا ہے۔ ان ردعملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلاف صرف ووٹر فہرستوں کی تکنیکی جانچ تک محدود نہیں بلکہ احتجاج کے حق، پولیس اقدامات اور جمہوری اداروں پر اعتماد کے موضوعات تک پھیل گیا ہے۔

انتخابی فہرستوں کی درستگی کسی بھی انتخاب کے لیے بنیادی انتظامی مرحلہ ہے، لیکن اس حوالے سے حقائق کی تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ، قانونی کارروائی اور آزاد جائزے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ ابھی اس خبر سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ فہرستوں میں مبینہ غلطیوں کے تمام دعوے ثابت ہو گئے ہیں یا کسی مخصوص جماعت کو فائدہ پہنچانے کا قانونی فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ آئندہ پیش رفت میں الیکشن کمیشن کا باضابطہ جواب اور انتظامیہ کے اقدامات اہم ہوں گے۔