ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتہ 10 اکتوبر 2026 کو حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوگئے۔ خبر رساں اداروں کی جانب سے نقل کیے گئے سعودی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق یہ گزشتہ ایک دہائی میں مملکت پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔ حملے کی ذمہ داری یمن کے حوثی گروہ سے منسوب کی گئی ہے، جس کی جانب سے حالیہ عرصے میں سعودی اہداف پر کارروائیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
سعودی شہری ہوا بازی کے ادارے کے حوالے سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری اور دو بنگلہ دیشی شامل ہیں۔ امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر سے تعلق رکھنے والا ایک ایک شخص بھی جان سے گیا۔ اس طرح متاثرین میں مختلف قومیتوں کے مسافر اور دیگر افراد شامل تھے۔ زخمیوں کی تعداد حکام کے تازہ دستیاب اعداد کے مطابق 309 بتائی گئی، البتہ بعد میں طبی صورتحال کے ساتھ اعداد میں تبدیلی کا امکان موجود رہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ایک ہی ہفتے میں ہوائی اڈے پر ہونے والا تیسرا حملہ تھا۔ مسلسل حملوں نے اہم شہری تنصیبات اور بین الاقوامی فضائی رابطوں کی سلامتی سے متعلق تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اس کارروائی کے جواب میں فیصلہ کن اقدامات کا عندیہ دیا، تاہم کسی آئندہ فوجی کارروائی کے نتائج کے بارے میں فوری طور پر کوئی مصدقہ اطلاع نہیں دی گئی۔
یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع علاقائی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ توانائی کی ترسیل، بین الاقوامی مسافر پروازیں اور خلیجی ممالک کے شہری مراکز پہلے ہی بدلتی سکیورٹی صورتحال سے متاثر ہیں۔ شہری ہوائی اڈے پر حملے کی نوعیت کے باعث غیر فوجی افراد کے تحفظ اور اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے مسائل بھی نمایاں ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی جوابی کارروائی میں ممکنہ امریکی شرکت سے متعلق محتاط بیان دیا۔ متعلقہ حکام کے مزید اعلانات سے حملے کی تکنیکی نوعیت، ممکنہ ذمہ داری اور سعودی ردعمل کے بارے میں زیادہ واضح تصویر سامنے آسکے گی۔ موجودہ رپورٹ میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد سعودی حکام اور مستند خبر رساں اداروں کی اطلاعات کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔
