جبوتی: اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن، یعنی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت، نے 11 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ مشرقی افریقہ سے یمن جانے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کم از کم 139 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں کم از کم 15 بچے شامل ہیں، جبکہ تقریباً 84 مسافر تاحال لاپتا بتائے گئے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ کشتی میں مجموعی طور پر 305 افراد سوار تھے اور 82 افراد زندہ بچنے کی اطلاع ہے۔ یہ اعداد و شمار امدادی کارروائیوں کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق کشتی 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی رات جبوتی کے بندرگاہی قصبے اوبوک کے شمال میں گوہیر کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ مقام اور سفر کی تفصیلات زندہ بچ جانے والوں کے بیانات کی بنیاد پر فراہم کی گئیں۔ کشتی جبوتی سے یمن کی طرف رواں دواں تھی۔ امدادی ادارے کی جاری کردہ تصاویر میں ساحل پر بہہ کر آنے والے جوتے اور دیگر اشیا دیکھی جا سکتی ہیں، جو حادثے کے بعد کی صورت حال ظاہر کرتی ہیں، تاہم ان تصاویر سے انفرادی متاثرین کی شناخت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

جبوتی میں آئی او ایم کے سربراہ الیگزاندر کوئساک نے کہا کہ تنظیم کی ٹیمیں مقامی حکام کے ہمراہ ہنگامی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ حادثہ ان خطرات کی یاد دہانی ہے جن کا سامنا بہتر معاشی امکانات کی تلاش میں سفر کرنے والے افراد کو ہوتا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ جبوتی کے حکام تلاش اور بچاؤ کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، زندہ بچنے والوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

یہ بحری راستہ عموماً مشرقی افریقہ کے باشندے یمن پہنچنے اور وہاں سے خلیجی ممالک کی جانب جانے کی امید میں اختیار کرتے ہیں۔ یمن میں پہلے ہی مسلح تنازع اور عدم استحکام کی وجہ سے عام آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آئی او ایم کے مطابق اس نام نہاد مشرقی راستے پر سمندری حادثات کے ساتھ انسانی اسمگلنگ اور زمینی سفر کے دوران گرفتاریوں کے خطرات بھی موجود ہیں۔

تنظیم کے مسنگ مائیگرنٹس منصوبے کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں اسی راہداری پر 900 سے زیادہ تارکین وطن ہلاک یا لاپتا ہوئے تھے۔ آئی او ایم کی حالیہ رپورٹ میں جبوتی سے گزرنے والے بعض ایتھوپیائی تارکین وطن نے خراب معاشی حالات اور خشک سالی جیسے عوامل کو نقل مکانی کی وجوہ میں شمار کیا، جبکہ بعض افراد نے تشدد اور جبری بھرتیوں کے خدشات کا بھی ذکر کیا۔ یہ الگ الگ افراد کے بیانات ہیں اور موجودہ کشتی کے ہر مسافر کے متعلق یکساں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

حادثے کے بعد سب سے فوری ترجیح لاپتا افراد کی تلاش، زندہ بچنے والوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں تک قابل اعتماد معلومات پہنچانا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے جاری ابتدائی اعداد و شمار اس سانحے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن تمام مسافروں کی حتمی شناخت اور اموات کی مکمل تصدیق کے لیے مقامی حکام اور امدادی ٹیموں کی کارروائیوں کے نتائج اہم ہوں گے۔