سیول: جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے پیر 12 اکتوبر 2026 کی صبح اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل صبح تقریباً 9 بج کر 20 منٹ پر پیانگ یانگ کے آس پاس کے علاقے سے داغے گئے۔ اس واقعے کو جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کی تازہ مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا نے اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ میزائل سمندر کی سمت گئے۔ جاپان کے کوسٹ گارڈ نے بھی دو ایسے پرتابوں کی نشاندہی کی جنہیں ممکنہ طور پر بیلسٹک میزائل سمجھا گیا، اور ابتدائی معلومات کے مطابق وہ سمندر میں گر چکے تھے۔ فائر کیے گئے میزائلوں کی حتمی قسم، طے کردہ فاصلہ اور تکنیکی صلاحیت کے بارے میں فوری طور پر مکمل سرکاری تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربات ایک ایسے وقت جاری ہیں جب جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان سرحدی کشیدگی کئی ہفتوں سے بڑھ رہی ہے۔ دونوں جانب عسکری طاقت کے مظاہروں اور ہتھیاروں کی آزمائشوں نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ تازہ تجربے کے بارے میں شمالی کوریا کی حکومت کا تفصیلی بیان ابتدائی رپورٹ میں موجود نہیں تھا، لہٰذا مقصد کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ کرنا مناسب نہیں۔

گزشتہ ماہ سرحد کے قریب بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں جنوبی کوریا کے تین فوجی زخمی ہوئے تھے۔ سیول نے اس واقعے کے لیے شمالی کوریا کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا، لیکن پیانگ یانگ نے الزام مسترد کر دیا اور جنوبی کوریا پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا۔ دونوں ممالک کے یہ متضاد دعوے ہیں، جن کے بارے میں آزادانہ شواہد کے بغیر کسی ایک مؤقف کو حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔

روئٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اپنے ملک کے پہلے ہائپرسونک میزائل تجربے کی نگرانی کی۔ جنوبی کوریا کے صدر کی جانب سے عوامی طور پر اس نوعیت کی عسکری آزمائش میں شرکت نسبتاً غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی صلاحیتوں کے اظہار کا بڑھتا ہوا رجحان سامنے آتا ہے۔

شمالی کوریا نے اس سے قبل 3 اکتوبر کو بھی میزائل داغا تھا۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے اسے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ایک اسٹریٹجک میزائل کی آزمائش قرار دیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا رواں سال دس سے زیادہ مواقع پر میزائل تجربات کر چکا ہے، تاہم ہر تجربے کی نوعیت اور تعداد الگ ہوسکتی ہے۔

موجودہ واقعے کے بعد جنوبی کوریا اور جاپان کی نگرانی کرنے والی ایجنسیوں کی اطلاعات خطے میں مزید عسکری پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ ابھی دستیاب رپورٹ میں کسی شہر یا شہری آبادی پر میزائل گرنے یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے تازہ خبر کو سمندر کی جانب میزائل داغے جانے اور اس پر متعلقہ حکومتوں کے ابتدائی ردعمل تک محدود رکھنا ضروری ہے۔