واشنگٹن/کیف: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 11 اکتوبر کو اعلان کیا کہ روس اور یوکرین نے توانائی کی تنصیبات کے خلاف حملے روکنے پر اتفاق کرلیا ہے اور ان کے بقول اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ تاہم اس اعلان کے بعد یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کو مجوزہ انتظام کی تفصیلات موصول نہیں ہوئیں، جبکہ روس کی جانب سے بھی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے امریکی صدر کے اعلان کو فریقین کے درمیان مکمل اور نافذ شدہ جنگ بندی کی غیر مشروط تصدیق قرار نہیں دیا جاسکتا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں دونوں ملکوں کی جانب سے توانائی کے محاذ پر جنگ بندی قبول کیے جانے کا دعویٰ کیا مگر اس کے دائرہ کار، نگرانی اور خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے طریقے کی تفصیلات نہیں دیں۔ زیلنسکی نے ردعمل میں کہا کہ یوکرین کشیدگی کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے لیکن روس کی عملی رضامندی بھی ضروری ہے۔
یوکرینی صدر نے بعد میں بتایا کہ امریکی اعلان کے باوجود روسی حملے جاری ہیں۔ ان کے مطابق خارکیف میں بجلی اور حرارت کی مشترکہ تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے یوکرین کی توانائی پیدا کرنے والی صلاحیت پر دو سو سے زیادہ اور تیل و گیس کی تنصیبات پر سترہ حملے ہوئے۔ یہ تعداد یوکرینی صدر کے بیان سے منسوب ہے، نہ کہ دونوں فریقوں کی مشترکہ طور پر تصدیق شدہ گنتی۔
کیف کا مؤقف ہے کہ اگر روس یوکرین کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا بند کرے تو یوکرین بھی روسی توانائی کے اہداف پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت حالیہ دنوں میں یوکرین سے روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اس تنازع کو عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی داخلی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ قیمتوں میں تبدیلی کے کئی بین الاقوامی عوامل ہیں۔
زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے ٹرمپ کے اعلان کے بارے میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب سے بھی بات کی ہے۔ ان رابطوں سے سفارتی مشاورت کی نشاندہی ہوتی ہے، لیکن وہ خود روس کی جانب سے جنگ بندی کی پابندی کا ثبوت نہیں ہیں۔
فی الحال بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ماسکو اور کیف ایک ہی تحریری یا عملی طریقہ کار پر متفق ہیں اور حملے واقعی رکتے ہیں یا نہیں۔ اس خبر کی اشاعت تک رائٹرز کے مطابق روسی حکام کی طرف سے امریکی اعلان کا فوری جواب سامنے نہیں آیا تھا۔
