جبوتی کے ساحل کے قریب تارکین وطن کو یمن لے جانے والی کشتی الٹنے سے کم از کم 139 افراد جان سے گئے ہیں، جن میں کم از کم 15 بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے 11 اکتوبر کو بتایا کہ حادثے کے بعد تقریباً 84 افراد لاپتا ہیں اور تلاش و امداد کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ادارے کے مطابق کشتی میں مجموعی طور پر 305 افراد سوار تھے، جن میں سے تقریباً 82 زندہ بچ سکے۔
روئٹرز کی رپورٹ، جو روزنامہ ڈان نے بھی شائع کی، کے مطابق کشتی 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی رات جبوتی کے بندرگاہی قصبے اوبوک کے شمال میں گوہیر کے قریب الٹی۔ حادثے کے مقام اور مسافروں کی تعداد کی تفصیلات زندہ بچ جانے والے افراد کے بیانات کی بنیاد پر فراہم کی گئی ہیں۔ متاثرہ افراد جبوتی سے یمن پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں سے بعض تارکین وطن زیادہ خوش حال خلیجی ممالک تک رسائی کی امید رکھتے ہیں۔
آئی او ایم کے جبوتی میں سربراہ الیگزاندر کوئساک نے بتایا کہ ادارے کی ٹیمیں مقامی حکام کے ساتھ مل کر ہنگامی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ بیان کے مطابق جبوتی کے حکام پانی میں لاپتا افراد کی تلاش کے علاوہ زندہ بچ جانے والوں کو طبی امداد اور ہلاک شدگان کی تدفین سے متعلق انتظامات میں مصروف ہیں۔ ساحل پر ملنے والے جوتوں کی تصاویر بھی اس سانحے کے انسانی نقصان کی نشان دہی کرتی ہیں۔
بحیرہ احمر کے اس حصے سے گزرنے والا راستہ مہاجرت کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ آئی او ایم کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 کے دوران اس مشرقی راستے پر 900 سے زیادہ تارکین وطن ہلاک یا لاپتا ہوئے تھے۔ اس سفر میں سمندری حادثات کے ساتھ انسانی اسمگلنگ، گرفتاریوں اور زمینی راستوں پر تشدد جیسے خطرات بھی موجود ہیں۔
خطے میں حالات مزید پیچیدہ ہیں کیونکہ یمن میں مسلح کشیدگی اور نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایتھوپیا کے بعض حصوں میں بھی لڑائی جاری ہے۔ آئی او ایم کی ایک حالیہ جائزہ رپورٹ میں کچھ ایتھوپیائی تارکین وطن نے معاشی دشواریوں، خشک سالی اور تنازعات کو اپنے وطن سے روانگی کی وجوہات قرار دیا تھا۔ انفرادی بیانات کو تمام مسافروں کے حالات کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکام کی جانب سے تلاش جاری رہنے کے سبب اموات اور لاپتا افراد کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے؛ فی الحال مذکورہ اعداد آئی او ایم کے تصدیق شدہ بیان سے منسوب ہیں۔
