خرطوم: سوڈان اور مصر کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں سونے کی ایک کان پر فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 72 مزدوروں کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے والی تنظیم ایمرجنسی لائرز نے اتوار کو بتایا کہ ہفتے کے روز جبل العقیدات کے مقام پر ہونے والے حملوں کی ابتدائی اطلاعات میں یہ تعداد سامنے آئی، جبکہ اموات کی حتمی تصدیق اور مکمل دستاویزی عمل جاری ہے۔
تنظیم نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی مصری فضائیہ نے کی تھی۔ تاہم اس الزام کے حق میں کسی آزاد تحقیق کا حتمی نتیجہ خبر میں پیش نہیں کیا گیا۔ مصر کی فوج نے اس مخصوص حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس لیے ممکنہ حملہ آور کی شناخت اور حملے کا درست جغرافیائی مقام دونوں کو متنازع امور کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ اسی علاقے میں سال کے دوران دوسرا بڑا رپورٹ شدہ حملہ تھا۔ جون میں جبل العقیدات میں فضائی حملوں سے 23 مزدوروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس وقت مصری فوج نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں کے اندر غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی، مگر تازہ واقعے کے ساتھ اسے بلا تحقیق جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
ہفتے کے حملے میں بچ جانے والے کان کن عبدالعزیز یوسف نے بتایا کہ صبح تقریباً آٹھ بجے ایک طیارہ آیا اور متعدد حملے ہوئے۔ ایک دوسرے عینی شاہد شرف علی کے مطابق دور افتادہ کان میں بڑی تعداد میں لوگ کام کررہے تھے اور حملے کے بعد مختلف سمتوں میں بھاگ نکلے۔ اس صورت حال میں اموات کی گنتی مشکل بتائی گئی اور ملبے کے نیچے مزید افراد کے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ یہ عینی شاہدین کے بیانات ہیں اور متاثرین کی حتمی فہرست نہیں۔
سوڈان اور مصر دونوں حلايب مثلث کے خطے پر دعویٰ کرتے ہیں، جس کے باعث متعلقہ علاقے کی سرحدی حیثیت بھی حساس ہے۔ ایمرجنسی لائرز نے کہا کہ حملہ سوڈانی حدود میں ہوا، جبکہ مصر پہلے اپنے اقدامات کو ملکی سرحدوں کے اندر کی کارروائیاں قرار دیتا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے مؤقف میں فرق اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اہم ہے۔
اپریل 2023 سے سوڈان میں جاری خانہ جنگی نے بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا کیا ہے اور غیر رسمی کان کنی میں روزگار تلاش کرنے والوں کی تعداد اور مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ سرحدی پہاڑی علاقے کا دور دراز ہونا امداد، زخمیوں کی منتقلی اور آزاد معلومات کی فراہمی میں مزید رکاوٹ بن سکتا ہے۔ فی الحال 72 اموات کا عدد انسانی حقوق تنظیم کی ابتدائی اطلاع ہے؛ اسے باضابطہ طور پر تصدیق شدہ حتمی تعداد نہیں کہا جاسکتا۔ خبر 12 اکتوبر 2026 کو ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ پر مبنی ہے۔
