اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور آکسفرڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے پیر 12 اکتوبر کو جاری کردہ اپنے 2026 کے جائزے میں بتایا ہے کہ عالمی کثیر جہتی غربت کے اشاریے کے تحت متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں شدید غربت کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں تقریباً پانچ کروڑ پندرہ لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اداروں نے کہا ہے کہ 2010 میں اس اشاریے کے آغاز کے بعد مجموعی تعداد میں یہ پہلا اضافہ ہے۔

کثیر جہتی غربت کا مطلب صرف آمدنی میں کمی نہیں بلکہ زندگی کی کئی بنیادی سہولتوں سے ایک ساتھ محرومی ہے۔ اس اشاریے میں مناسب رہائش، صفائی، بجلی، کھانا پکانے کے ایندھن، خوراک اور تعلیم جیسی ضروریات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس طریقۂ پیمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاندان کی مشکلات صرف مالی آمدن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ صحت، رہائش اور روزمرہ زندگی کے دوسرے پہلو بھی ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔

یو این ڈی پی کے منتظم الیگزینڈر ڈی کرو نے اس صورتحال کو عالمی برادری کے لیے تنبیہ قرار دیا۔ ان کے مطابق لاکھوں نہیں بلکہ اربوں انسان بھوک، تعلیم سے محرومی اور صاف پانی یا بجلی تک ناکافی رسائی جیسی باہم جڑی مشکلات سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شدید کثیر جہتی غربت کے شکار افراد میں نصف سے زیادہ بچے ہیں، جس سے محرومیوں کے نسل در نسل منتقل ہونے کا خدشہ نمایاں ہوتا ہے۔

تاہم رپورٹ کے اعدادوشمار کی تشریح میں احتیاط ضروری ہے۔ یو این ڈی پی نے واضح کیا کہ مجموعی تعداد میں اضافے کی ایک اہم وجہ آبادی کا بڑھنا ہے۔ جائزے میں شامل 108 ترقی پذیر ملکوں میں سے صرف 13 کے لیے نئے اعدادوشمار دستیاب تھے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر ملک میں غربت کی شرح لازماً بڑھی ہے یا ہر جگہ یکساں رجحان دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں بہتری کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران 33 ملکوں نے کثیر جہتی غربت میں مبتلا آبادی کے تناسب کو نصف کیا۔ مصر، نیپال اور تاجکستان میں غربت کی شرح اور متاثرہ افراد کی تعداد دونوں میں نمایاں کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری طرف انگولا اور زیمبیا میں غربت کی شرح کم ہونے کے باوجود آبادی میں اضافے کے باعث متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھی۔

اداروں کے مطابق دنیا کے غریب ترین افراد کی بڑی تعداد اب بھی افریقہ کے زیریں صحارا خطے اور جنوبی ایشیا میں رہتی ہے۔ تازہ رپورٹ اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ غربت کے خلاف پیش رفت کا جائزہ لیتے وقت شرح، مجموعی تعداد اور ڈیٹا کی تازگی کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔