اسلام آباد: اقوام متحدہ کی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق کمیٹی نے پاکستان کے دوسرے دورانی رپورٹ کے جائزے کا عمل مکمل کرتے ہوئے کم از کم شادی کی عمر 18 سال کرنے کے لیے 2025 میں کی گئی قانونی ترمیم کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم کمیٹی کے ماہرین نے جبری مشقت، کم عمر شادیوں اور سیلاب کے بعد بحالی و تعمیر نو سمیت متعدد معاملات پر سوالات بھی اٹھائے۔ ڈان کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ جائزہ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی عہد کے تحت کیا گیا۔
پاکستانی وفد نے کمیٹی کو بتایا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں 21 لاکھ مکانات تباہ ہوئے تھے، جن میں سے تقریباً 6 لاکھ گھروں کی تعمیر نو مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی مکانات پر کام جاری ہے۔ وفد نے سیلابی خطرات سے نمٹنے، زرعی زمین اور رہائشی یونٹس کے تحفظ اور صوبائی سطح پر حفاظتی اقدامات کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔ کمیٹی کے ماہرین نے متاثرین کی بحالی، تعمیر نو کی رفتار اور کمزور طبقات تک عملی فوائد پہنچنے کے حوالے سے مزید تفصیلات طلب کیں۔
کمیٹی کی پاکستان سے متعلق ٹاسک فورس کی سربراہ جولیٹا روسی نے اختتامی کلمات میں کہا کہ پاکستانی وفد نے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے نفاذ کے لیے جاری عمل اور ملک کو درپیش اہم چیلنجز کی وضاحت کی۔ ان کے مطابق قانونی سطح پر ہونے والی پیش رفت اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا بھی گفتگو کا حصہ رہا۔ کمیٹی اپنی حتمی مشاہدات اور سفارشات میں اس معلومات کو شامل کرے گی۔
پاکستانی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک آئینی ضمانتوں اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور محدود وسائل و دیگر مشکلات کے باوجود حقوق کے بتدریج حصول کی سمت پیش رفت ہوئی ہے۔ وفد میں وزارت قانون و انصاف، وزارت انسانی حقوق اور جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مشن کے نمائندے شامل تھے۔
یہ جائزہ کسی عدالت کا فیصلہ یا پاکستان کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدے کے تحت نگرانی کا عمل ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جبری مشقت، بچوں کی شادی اور سیلاب متاثرین کی بحالی پر اٹھائے گئے سوالات ان شعبوں میں عمل درآمد کی جانچ کا حصہ ہیں۔ آئندہ جاری ہونے والے اختتامی مشاہدات میں کمیٹی پاکستان کے لیے تفصیلی سفارشات پیش کر سکتی ہے، جن پر عمل درآمد کی ذمہ داری ملکی اداروں اور حکومتوں کی پالیسی و قانونی اقدامات سے جڑی ہوگی۔
