اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ال نینو چکر عالمی صحت کے لیے ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارش اور سیلاب کے امکانات کئی خطوں میں بڑھ رہے ہیں۔ 22 ستمبر 2026 کو جاری انتباہ میں ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے کہا کہ موسمی جھٹکے خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں جہاں صحت کا نظام کمزور، طبی سہولتوں تک رسائی محدود، غذائی عدم تحفظ زیادہ اور انسانی نقل مکانی پہلے سے جاری ہے۔
ال نینو بحرالکاہل کے سطحی پانی کے درجہ حرارت میں قدرتی اضافے سے جڑا موسمی رجحان ہے۔ یہ خود موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا، لیکن سائنس دانوں کے مطابق پہلے سے گرم ہوتی دنیا میں اس کے اثرات زیادہ شدید محسوس ہو سکتے ہیں۔ اس رجحان کے دوران مختلف علاقوں میں غیر معمولی گرمی، خشک سالی اور دوسری جگہوں پر شدید بارش اور سیلاب کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھاری بارش اور سیلاب صاف پانی اور نکاسی کے نظام کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے ہیضے جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح گرم اور مرطوب حالات مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملیریا، ڈینگی اور چکن گنیا جیسے امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادارے نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ صحت کی نگرانی، ویکسین، ادویات، ہنگامی رسد اور بیماریوں کی جلد شناخت کے نظام پہلے سے مضبوط کریں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ موجودہ ال نینو کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ تقریباً چار دہائیوں کے دستیاب تقابلی ریکارڈ میں سب سے طاقتور ہو سکتا ہے اور اس کے موسمی اثرات 2027 تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے اس صورت حال کو صحت کے لیے 'رسک ملٹی پلائر' قرار دیا ہے، یعنی ایسا عامل جو پہلے سے موجود کمزوریوں کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ہر ال نینو کی شدت اور جغرافیائی اثرات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے تمام ممالک میں یکساں نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ تاہم موجودہ دور میں پہلے ہی ریکارڈ توڑ درجہ حرارت دیکھے جانے کے باعث ممکنہ شدید ال نینو کے ساتھ مجموعی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا زور اس بات پر ہے کہ حکومتیں ممکنہ بحران کے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی تیاری، صحت کے نظام کی مضبوطی اور موسمی خطرات کی نگرانی کو ترجیح دیں۔

