نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے براعظموں اور زمینی خطوں کے باہمی رقبے کو زیادہ درست تناسب سے دکھانے والے ’’ایکول ارتھ‘‘ نقشے کے استعمال کی حمایت میں ایک غیر پابند قرارداد منظور کر لی ہے۔ 4 ستمبر 2026 کو ہونے والی ووٹنگ میں 164 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، امریکا نے مخالفت کی اور چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ یہ فیصلہ رکن ممالک اور اداروں کے لیے سیاسی و تعلیمی سفارش ہے، کسی مخصوص نقشے کے استعمال کو لازمی بنانے والا بین الاقوامی قانون نہیں۔

قرارداد کی قیادت ٹوگو نے افریقی یونین اور متعدد افریقی ممالک کی حمایت سے کی۔ اس کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ روایتی مرکیٹر پروجیکشن دنیا کے مختلف حصوں کے رقبے کو ایک جیسے تناسب سے پیش نہیں کرتا، بالخصوص خطِ استوا کے قریب واقع افریقہ جیسے براعظم نقشے پر اپنی حقیقی نسبت سے چھوٹے اور قطبی علاقوں کے قریب زمینیں بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ قرارداد نے اس تاریخی بصری عدم تناسب کو تعلیم، عوامی تصور اور عالمی نمائندگی سے جڑا مسئلہ قرار دیا۔

مرکیٹر نقشہ فلیمش نقشہ ساز جیرارڈس مرکیٹر نے 1569 میں سمندری جہاز رانی کے لیے تیار کیا تھا۔ اس پروجیکشن کی خاصیت یہ ہے کہ سمت اور زاویوں کو ایسے انداز میں محفوظ رکھتا ہے جو نیوی گیشن کے لیے مفید ہے، مگر پورے کرۂ ارض کو مستطیل سطح پر دکھاتے وقت رقبوں میں نمایاں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ قرارداد مرکیٹر کے بحری یا تکنیکی استعمال پر پابندی نہیں لگاتی، بلکہ عمومی عالمی نقشوں، تعلیمی مواد اور ادارہ جاتی پیشکشوں میں زیادہ متناسب متبادل کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے۔

ایکول ارتھ پروجیکشن 2018 میں تیار کیا گیا تھا اور اسے ’’مساوی رقبہ‘‘ نقشہ کہا جاتا ہے، یعنی مختلف زمینی خطوں کے رقبے ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ درست تناسب سے دکھائے جاتے ہیں۔ قرارداد کے متن کے مطابق یہ نقشہ براعظمی زمینی حجم کی زیادہ صحیح نمائندگی کے لیے ایک موزوں انتخاب ہے۔ ہر فلیٹ نقشہ کرۂ ارض کی شکل، سمت، فاصلے یا رقبے میں سے کچھ خصوصیات پر سمجھوتا کرتا ہے؛ ایکول ارتھ کا مرکزی فائدہ رقبے کے نسبتی تناسب کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ہر قسم کی جغرافیائی پیمائش کو بیک وقت مکمل طور پر درست بنانا۔

منظور شدہ قرارداد رکن ممالک، تعلیمی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں، ذرائع ابلاغ اور نقشہ سازی سے وابستہ ٹیکنالوجی اداروں کو ایکول ارتھ یا اسی نوعیت کی زیادہ متناسب نقشہ پروجیکشنز اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ تاہم اس کے بعد نصابی کتابوں، سرکاری دستاویزات یا ڈیجیٹل پلیٹ فارموں میں تبدیلی خودکار طور پر نہیں ہوگی۔ ہر ملک اور ادارے کو اپنی پالیسی، نصاب، اشاعتی نظام اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق الگ فیصلہ کرنا ہوگا۔

امریکا نے قرارداد کے خلاف واحد ووٹ دیا۔ امریکی نمائندے نے اسے غیر ضروری اور نظریاتی نوعیت کی کاوش قرار دینے کا مؤقف اختیار کیا، جبکہ حامی ممالک نے کہا کہ نقشے محض تکنیکی خاکے نہیں بلکہ دنیا کے بارے میں اجتماعی تصور بناتے ہیں۔ دونوں مؤقف ووٹنگ کے دوران سامنے آنے والی سیاسی آرا ہیں؛ قرارداد کا منظور ہونا کسی ایک نقشہ پروجیکشن کو تمام سائنسی، تعلیمی یا عملی مقاصد کے لیے واحد درست طریقہ قرار نہیں دیتا۔

اس فیصلے کا فوری مصدقہ نتیجہ 164 ووٹوں سے ایک غیر پابند عالمی سفارش کی منظوری ہے۔ اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ بعد میں اس بات سے ہوگا کہ کتنے ممالک اپنے تعلیمی نصاب، سرکاری نقشوں اور عوامی مواصلات میں متناسب پروجیکشنز اپناتے ہیں، اور بڑی نقشہ ساز و ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی مصنوعات میں کس حد تک تبدیلی کرتی ہیں۔ فی الحال مرکیٹر نقشہ ممنوع نہیں ہوا اور نہ ہی رکن ممالک کے لیے ایکول ارتھ اپنانے کی قانونی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔