راولپنڈی: امریکا کے افغانستان وار کمیشن کے ایک وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ، پاکستان کے کردار، علاقائی سلامتی اور موجودہ افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق وفد کی قیادت کمیشن کی شریک سربراہان شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کر رہے تھے۔
افغانستان وار کمیشن امریکی کانگریس کی جانب سے قائم ایک آزاد ادارہ ہے جو جون 2001 سے اگست 2021 تک افغانستان میں امریکا کی پالیسی، فیصلوں اور جنگی حکمت عملی کا جائزہ لے رہا ہے۔ ملاقات میں کمیشن کے کام سے متعلق ان امور پر توجہ دی گئی جن میں پاکستان کی معاونت، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت شامل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفد کو ان سکیورٹی حالات کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا جنہوں نے طویل افغان تنازع کو شکل دی، اور ان چیلنجز کا ذکر کیا جن کا پاکستان کو اس دوران سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے اسٹریٹجک، سفارتی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیتے وقت علاقائی ممالک کے تجربات اور زمینی تناظر کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ مؤقف پاکستانی حکام کی جانب سے اس وسیع تر دلیل کا حصہ ہے کہ افغانستان کے بارے میں پالیسی کا تجزیہ صرف امریکی ادارہ جاتی ریکارڈ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی وفد نے افغانستان کے تنازع کے دوران پاکستان کے طویل کردار اور قربانیوں کو تسلیم کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کو سراہا۔ یہ تعریف وفد اور پاکستانی فوجی قیادت کی ملاقات کے حوالے سے آئی ایس پی آر کی بیان کردہ تفصیل ہے؛ کمیشن کی حتمی رپورٹ میں پاکستان کے کردار کی مجموعی تشریح اس کے اپنے شواہد اور جائزے کے بعد سامنے آئے گی۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سرحد پار عسکریت پسندی، سکیورٹی واقعات اور باہمی الزامات کے باعث کشیدہ ہیں۔ اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، جبکہ افغان طالبان مختلف پاکستانی دعوؤں پر اختلاف کرتے رہے ہیں۔ اس پس منظر میں امریکی کمیشن کے لیے پاکستان کا تجربہ جنگ کے علاقائی نتائج، سرحدی سکیورٹی، پناہ گزینوں، انسداد دہشت گردی اور سفارتی تعامل کو سمجھنے کے لیے اہم حوالہ بن سکتا ہے۔
افغانستان وار کمیشن اپنی تحقیق کے دوران امریکی اور غیر امریکی حکام، ماہرین اور متعلقہ فریقوں سے معلومات جمع کر رہا ہے۔ جی ایچ کیو کی یہ ملاقات اسی مشاورتی عمل کا حصہ ہے اور اس مرحلے پر کمیشن کی کسی حتمی نتیجہ خیز رائے یا سفارش کا اعلان نہیں کیا گیا۔
