راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی افغانستان وار کمیشن کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی، جس میں افغانستان میں امریکا کی طویل فوجی و سیاسی مصروفیت، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان کے تجربات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق وفد کی قیادت کمیشن کی شریک سربراہان شمیلہ این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کر رہے تھے۔

ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان کے تنازع کے دوران پیدا ہونے والی سکیورٹی حرکیات کے بارے میں پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا اور ان چیلنجز کا ذکر کیا جن کا پاکستان نے اس طویل عرصے میں سامنا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کمیشن جب امریکی پالیسی، سفارت کاری اور فوجی حکمتِ عملی کے مختلف مراحل کا جائزہ لے تو خطے کے ممالک، بالخصوص پاکستان کے تجربے کو بھی اس تجزیے کا حصہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق اس تناظر کے بغیر تنازع کے اسٹریٹجک، سفارتی اور آپریشنل پہلوؤں کی مکمل تصویر سامنے نہیں آ سکتی۔

امریکی افغانستان وار کمیشن امریکا کی افغانستان میں تقریباً بیس سالہ شمولیت کا جائزہ لے رہا ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے دی گئی معاونت، افغانستان میں پیش رفت اور مجموعی علاقائی سکیورٹی ماحول بھی زیرِ بحث آیا۔ شائع شدہ تفصیلات کے مطابق امریکی وفد نے افغانستان کی جنگ کے دوران پاکستان کے طویل کردار اور جانی و دیگر قربانیوں کو تسلیم کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کو سراہا۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب افغانستان کی جنگ کے نتائج، امریکی انخلا اور خطے پر اس کے طویل المدتی اثرات کے بارے میں مختلف ادارہ جاتی جائزے جاری ہیں۔ کمیشن کا کام امریکی فیصلوں اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لینا ہے، اس لیے پاکستانی فریق نے اپنی گفتگو میں اس بات پر توجہ دی کہ تنازع کو صرف واشنگٹن یا کابل کے زاویے سے نہیں بلکہ وسیع علاقائی پس منظر میں بھی دیکھا جائے۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والی معلومات میں کسی نئے معاہدے، مشترکہ آپریشن یا پالیسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا؛ گفتگو کو بنیادی طور پر کمیشن کے تحقیقی جائزے کے لیے تبادلہ خیال قرار دیا گیا ہے۔