اسلام آباد/راولپنڈی: امریکا کے افغانستان وار کمیشن کے ایک وفد نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی اور واشنگٹن کی افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کے جامع جائزے کے سلسلے میں پاکستان کا نقطہ نظر حاصل کیا۔ کمیشن کے وفد کی قیادت شریک سربراہان شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن نے کی۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے حوالے سے پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملاقات میں پاکستان کی معاونت، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت سمیت ایسے موضوعات پر گفتگو ہوئی جو کمیشن کے کام سے متعلق ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کے دوران پیدا ہونے والی سکیورٹی حرکیات اور پاکستان کو درپیش مشکلات کے بارے میں پاکستانی مؤقف بیان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے 20 سالہ افغان تجربے کے تزویراتی، سفارتی اور آپریشنل پہلوؤں کا جائزہ لیتے وقت علاقائی تناظر اور پاکستان کے تجربے کو بھی شامل کیا جائے۔
امریکی افغانستان وار کمیشن کانگریس کی جانب سے قائم کیا گیا ایک آزاد دو جماعتی ادارہ ہے، جس کا مقصد ستمبر 2001 سے اگست 2021 تک افغانستان میں امریکا کی فوجی، سفارتی اور تزویراتی مصروفیت سے متعلق اہم فیصلوں، پالیسیوں اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔ موجودہ رابطہ اسی وسیع تر تحقیقی عمل کا حصہ ہے۔ ملاقات کے بارے میں دستیاب سرکاری بیان میں کسی نئی دوطرفہ فوجی ڈیل، معاہدے یا پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق وفد نے افغان جنگ کے دوران پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو تسلیم کیا اور علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کی شراکت کو سراہا۔ یہ مؤقف وفد اور پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے؛ کمیشن کی حتمی رپورٹ یا نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، اس لیے ملاقات میں پیش کیے گئے مؤقف کو کمیشن کے حتمی اخذ کردہ نتائج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
افغانستان سے متعلق پاکستان کی موجودہ سکیورٹی تشویش میں سرحد پار شدت پسند حملوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی حکام بارہا افغان طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ تاہم اس ملاقات کا بنیادی موضوع ماضی کی امریکی جنگ کا جائزہ اور اس میں علاقائی تجربات کو شامل کرنا تھا، نہ کہ کسی مخصوص موجودہ سکیورٹی آپریشن کا اعلان۔
کمیشن کی تحقیق مکمل ہونے کے بعد اس کے نتائج امریکی پالیسی سازی اور افغانستان کی جنگ سے متعلق تاریخی و ادارہ جاتی احتساب کی بحث میں اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ فی الحال ملاقات سے اتنا واضح ہے کہ کمیشن پاکستان سمیت ان علاقائی فریقوں کی آرا اور تجربات جمع کر رہا ہے جن پر دو دہائیوں کی جنگ کے براہ راست اثرات پڑے۔
