واشنگٹن: امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے اپنا استعفیٰ وائٹ ہاؤس کو پیش کردیا ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پیر کو استعفیٰ جمع ہونے کی تصدیق کی، جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور ڈرسکول کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات دی ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے استعفیٰ قبول کرلیا ہے، اس لیے اسے اس مرحلے پر جمع شدہ استعفیٰ ہی سمجھا جا رہا ہے، حتمی برطرفی یا منصب خالی ہونے کا اعلان نہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پرنسپل ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی سے وال اسٹریٹ جرنل کی خبر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے استعفیٰ دینے کی اطلاع کی تردید نہیں کی۔ انہوں نے ڈرسکول کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی فوج میں تیاری اور عملی صلاحیت پر توجہ بڑھانے، روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں معاونت اور دیگر امور میں کردار ادا کیا۔ یہ وائٹ ہاؤس کا سرکاری مؤقف ہے؛ وزیر دفاع سے اختلافات کی نوعیت یا استعفیٰ کی وجوہات پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان رپورٹ میں شامل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر استعفیٰ منظور ہوجاتا ہے تو ڈرسکول ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں رخصت ہونے والے تازہ ترین سینئر عسکری رہنما ہوں گے۔ ڈرسکول نائب صدر جے ڈی وینس کے لا اسکول کے سابق ہم جماعت رہے ہیں اور انتظامیہ کے اندر ان کے تعلقات کا ذکر بھی کیا گیا، تاہم پیٹ ہیگستھ کے ساتھ مبینہ اختلافات کی تفصیل وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ سے منسوب ہے۔ اسے کسی سرکاری انکوائری یا دونوں عہدیداروں کے مشترکہ بیان کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن جیک ریڈ نے ڈرسکول کی ممکنہ رخصتی کی ذمہ داری وزیر دفاع پر ڈالی اور ہیگستھ کی قیادت پر تنقید کی۔ یہ ایک سیاسی ردعمل ہے، نہ کہ استعفیٰ کی وجہ کا غیر جانب دار یا حتمی تعین۔ ڈرسکول عراق میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوج کے سابق اہلکار ہیں، 2020 میں کانگریس کا انتخاب لڑ چکے ہیں اور بعد میں ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے مشیر رہے۔

اس پیش رفت کا ادارہ جاتی پہلو بھی اہم ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع نے اپریل میں آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹایا تھا اور مستقل جانشین ابھی نامزد نہیں ہوا۔ اسی تناظر میں ڈرسکول کا استعفیٰ منظور ہونے کی صورت میں فوج کی مستقل سویلین اور وردی پوش قیادت دونوں سے متعلق خلا پیدا ہونے کا امکان بتایا گیا ہے۔ تاہم نئی نامزدگی، قائم مقام انتظام یا استعفیٰ کی منظوری کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری فیصلہ سامنے آنے تک اگلا مرحلہ غیر یقینی ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک