ویانا/پیرس: امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، کے بورڈ آف گورنرز سے ایران کے جوہری تحفظات کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرانے کے لیے قرارداد کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سفارت کاروں اور رائٹرز کے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق چاروں ممالک اگلے ہفتے ہونے والے 35 رکنی بورڈ اجلاس میں یہ اقدام آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

یہ پیش رفت ابھی حتمی فیصلہ نہیں۔ سفارت کاروں کے مطابق قرارداد کا مسودہ 4 ستمبر تک باضابطہ طور پر بورڈ میں جمع نہیں کرایا گیا تھا اور اس کی درست عبارت پر رکن ممالک کے درمیان مشاورت جاری تھی۔ اس لیے ایران کو سلامتی کونسل بھیجے جانے، بورڈ سے قرارداد منظور ہونے یا سلامتی کونسل کی کسی کارروائی کو مکمل شدہ نتیجہ کہنا درست نہیں ہوگا۔

مجوزہ متن میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا ہے کہ نئی قرارداد کے ساتھ اس موضوع پر پہلے منظور شدہ قراردادیں بھی ایجنسی کے تمام رکن ممالک، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو منتقل کریں۔ مسودہ ایران سے یہ مطالبہ بھی دہراتا ہے کہ وہ اپنے جوہری تحفظاتی معاہدے سے متعلق عدم تعمیل دور کرنے کے لیے ایجنسی اور بورڈ کے ضروری سمجھے گئے اقدامات کرے، تاکہ ایرانی اعلانات کی درستگی اور مکمل ہونے کے بارے میں تصدیق ممکن ہو۔

رائٹرز کے مطابق یہ کوشش جون 2025 میں منظور ہونے والی اس قرارداد کا تسلسل ہے جس میں ایران کو غیر اعلانیہ مقامات پر پائے گئے یورینیم ذرات کی تحقیقات میں مکمل تعاون نہ کرنے پر جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ اس کے اگلے دن اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے شروع کیے اور بعد میں امریکا بھی ان کارروائیوں میں شامل ہوا۔ متعلقہ افزودگی تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اسے حملوں سے متاثرہ ایرانی تنصیبات اور وہاں موجود جوہری مواد تک مسلسل رسائی حاصل نہیں۔ جون 2026 میں ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بورڈ کو بتایا تھا کہ تقریباً ایک سال سے متاثرہ اعلان شدہ تنصیبات تک رسائی نہ ہونے کے باعث ایجنسی پہلے سے اعلان کردہ جوہری مواد کے بارے میں معلومات کا تسلسل کھو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مواد میں تقریباً 440 کلوگرام زیادہ افزودہ یورینیم بھی شامل ہے جس کی ایجنسی جون 2025 کے بعد تصدیق نہیں کرسکی۔

ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن ہے اور پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور افزودگی کے حق پر زور دیتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ دوسری جانب آئی اے ای اے نے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے حجم اور اس کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کو سنجیدہ پھیلاؤ کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ دونوں مؤقفوں کے درمیان بنیادی تنازع ایجنسی کی رسائی، مواد کے مقام اور مکمل تصدیق پر ہے۔

اگر بورڈ قرارداد منظور کرکے معاملہ سلامتی کونسل کو رپورٹ کرتا ہے تو یہ تقریباً دو دہائیوں میں اس نوعیت کی پہلی پیش رفت ہوگی۔ تاہم رپورٹ کیا جانا بذاتِ خود نئی پابندی، فوجی کارروائی یا سلامتی کونسل کی لازمی قرارداد نہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران کے اتحادی روس اور چین سلامتی کونسل کے مستقل اور ویٹو رکھنے والے رکن ہیں، اس لیے کسی ٹھوس کونسل اقدام کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔

ایران ماضی میں آئی اے ای اے بورڈ کی قراردادوں کے جواب میں جوہری سرگرمیاں بڑھانے یا تعاون محدود کرنے کے اقدامات کرتا رہا ہے، مگر موجودہ حالات میں اس کا ممکنہ ردِعمل واضح نہیں۔ تازہ خبر کا مصدقہ دائرہ یہی ہے کہ چار مغربی ممالک سفارتی حمایت جمع کر رہے ہیں، مسودے پر مذاکرات جاری ہیں، اور اگلے ہفتے بورڈ کے سامنے باضابطہ پیشی و ووٹنگ ابھی باقی ہے۔