واشنگٹن: امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنے اکتوبر کے پالیسی اجلاس میں بنیادی شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ایسے وقت میں جب مرکزی بینک مہنگائی، معاشی نمو اور روزگار سے متعلق مزید اعداد و شمار کا انتظار کر رہا ہے۔ فیصلے کے بعد مالیاتی منڈیوں کی توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ آیا دسمبر یا اس کے بعد شرح سود میں مزید تبدیلی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے فیصلے میں پالیسی سازوں نے فوری نئی سختی کے بجائے انتظار اور جائزے کی حکمت عملی اپنائی۔ فیڈ چیئر کیون وارش نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی معیشت ان کے خیال میں حد سے زیادہ گرم نہیں چل رہی اور بیشتر ساتھی پالیسی ساز بھی نمو کو بذات خود مہنگائی کا بنیادی محرک نہیں سمجھتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی بینک کا مقصد معاشی سرگرمی میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ قیمتوں کے استحکام اور پائیدار نمو کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔
فیڈ کے لیے موجودہ ماحول پیچیدہ ہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں، عالمی تنازعات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے سرمایہ کاری منصوبوں نے طلب، پیداواری صلاحیت اور قیمتوں کے بارے میں نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ وارش نے پیداواری صلاحیت میں بہتری کا حوالہ دیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ اس کی درست پیمائش مشکل ہے۔ اس لیے پالیسی کا اگلا قدم کسی ایک اشارے کے بجائے مجموعی معاشی شواہد پر منحصر ہوگا۔
شرح سود برقرار رکھنے کے بعد امریکی حصص بازاروں میں محدود اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نتائج اور آئندہ معاشی اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مرکزی بینک کے فیصلے کا عالمی اثر بھی اہم ہے کیونکہ امریکی شرح سود ڈالر، بانڈ ییلڈز، ابھرتی منڈیوں میں سرمائے کی آمدورفت اور قرض کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
فیڈ نے کسی مخصوص آئندہ تاریخ پر شرح میں تبدیلی کی ضمانت نہیں دی۔ موجودہ فیصلہ پالیسی کو عارضی طور پر مستحکم رکھنے کا ہے، جبکہ مہنگائی اور معاشی سرگرمی کے نئے شواہد آئندہ اجلاسوں میں سمت کا تعین کریں گے۔

