واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے قونصلر افسران کی تربیت کے دوران دنیا بھر میں ویزا اپائنٹمنٹس کو عارضی طور پر روکنے یا دوبارہ ترتیب دینے کا عمل شروع کیا ہے۔ دی نیشن کی 26 اگست کو شائع رائٹرز رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے افسران کے لیے عالمی تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے ویزا ملاقاتوں کے شیڈول میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
محکمہ خارجہ نے تربیت کی مدت، متاثر ہونے والی اپائنٹمنٹس کی مجموعی تعداد یا ہر ملک کے لیے الگ شیڈول فراہم نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کو ای میلز موصول ہوئیں جن میں پہلے سے مقرر انٹرویوز دوبارہ شیڈول کیے جانے اور نئی تاریخ بعد میں بتانے کی اطلاع دی گئی۔ اس کا مطلب ہر جاری ویزا درخواست کی منسوخی نہیں، بلکہ متعدد ملاقاتوں کے وقت میں انتظامی تبدیلی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تربیت کا مقصد قونصلر افسران کو ایسے درخواست گزاروں کی شناخت اور جائزہ لینے میں مدد دینا ہے جو مستقبل میں سرکاری مراعات پر انحصار کر سکتے ہوں، اور مختلف مقامات پر درخواستوں کی جانچ کو زیادہ جامع اور یکساں بنانا ہے۔ یہ معیار اور اس کا عملی اطلاق امیگریشن پالیسی پر جاری قانونی اور سیاسی بحث کا حصہ ہے۔ درخواست گزاروں کو اپنی متعلقہ سفارت گاہ یا سرکاری ویزا پورٹل کی انفرادی اطلاع کو حتمی رہنمائی سمجھنا چاہیے۔
یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع امیگریشن سختیوں کے دوران سامنے آئی ہے، جن میں ویزا اور گرین کارڈ کی منسوخیاں اور درخواستوں کی زیادہ جانچ شامل رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک امریکی عدالت نے 75 ملکوں کے درخواست گزاروں کے لیے امیگرنٹ ویزا اجرا معطل کرنے کی ایک الگ پالیسی کو قانونی اختیار سے تجاوز قرار دے کر روک دیا۔ یہ عدالتی فیصلہ موجودہ تربیتی شیڈول کی خودکار منسوخی نہیں کرتا۔
متاثرہ افراد کے لیے اہم فرق یہ ہے کہ اپائنٹمنٹ کی تبدیلی، درخواست کا انکار اور جاری ویزا کی منسوخی تین الگ کارروائیاں ہیں۔ موجودہ رپورٹ پہلی کارروائی سے متعلق ہے۔ نئی تاریخ، ملک وار اثر اور پروگرام کی مدت سامنے آنے پر صورت حال مزید واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




