جرمنی نے 23 افغان مردوں کو ایک چارٹر پرواز کے ذریعے کابل ملک بدر کردیا ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پرواز منگل کی صبح لائپزگ ہوائی اڈے سے روانہ ہوئی۔ جرمن وزارتِ داخلہ نے کہا کہ پرواز میں سوار تمام افراد قانونی طور پر ملک چھوڑنے کے پابند تھے اور ان میں بیشتر ایسے مجرم تھے جنہیں سنگین جرائم میں سزا دی جا چکی تھی۔

جرمن وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ 23 افغان مردوں کو کابل جانے والی چارٹر پرواز پر روانہ کیا گیا۔ وزارت کے مطابق ملک بدر کیے گئے افراد میں زیادہ تعداد سنگین جرائم، بشمول جنسی جرائم اور جسمانی نقصان پہنچانے کے مقدمات میں سزا یافتہ افراد کی تھی۔ وزارت کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پرواز میں شامل تمام افراد کسی نہ کسی صورت جرمن فوجداری نظام کی توجہ میں آ چکے تھے۔

جرمن روزنامے بلڈ کی شائع کردہ ویڈیو میں مبینہ طور پر ان افراد کو صبح طلوع ہونے سے پہلے طیارے میں سوار ہوتے دکھایا گیا۔ ہوائی اڈے کے ٹرمینل میں چند مظاہرین نے ملک بدری روکنے اور پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کا بینر اٹھا رکھا تھا۔ اردو ہیڈ لائنز نے ویڈیو کی الگ سے تصدیق نہیں کی؛ اسے خبر میں بلڈ کی شائع کردہ فوٹیج کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔

جرمنی نے 2015 کے بعد بڑی تعداد میں پناہ گزینوں اور پناہ کے خواہش مند افراد کو قبول کیا، مگر چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت نے سرحدی نگرانی اور ملک بدری کے عمل میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔ افغان شہریوں کے معاملے میں برلن کی ترجیح طویل عرصے سے سزا یافتہ مجرموں کی ملک بدری رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں جرمنی نے پہلی مرتبہ ایک ایسے افغان شہری کو بھی واپس بھیجا تھا جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا لیکن اس کی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوا کہ ملک بدری کا دائرہ صرف سزا یافتہ مجرموں تک محدود نہیں رہا، اگرچہ منگل کی پرواز کے بارے میں حکومتی بیان نے تمام افراد کے فوجداری نظام کی توجہ میں آنے اور بیشتر کے سنگین جرائم میں سزا یافتہ ہونے پر زور دیا۔

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یورپی ممالک کے لیے افغان شہریوں کی واپسی انسانی حقوق، قانونی ذمہ داریوں اور داخلی امیگریشن پالیسی کے درمیان ایک حساس مسئلہ رہی ہے۔ موجودہ رپورٹ میں ملک بدر افراد کی انفرادی قانونی اپیلوں، افغانستان پہنچنے کے بعد ان کی تحویل یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے انتظامات کی تفصیل شامل نہیں۔

اردو ہیڈ لائنز نے خبر کو جرمن وزارتِ داخلہ سے منسوب سرکاری بیان اور ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ تک محدود رکھا ہے۔ کسی شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور حکومتی دعوے کو انفرادی عدالتی ریکارڈ کی آزادانہ پڑتال کے برابر نہیں سمجھا گیا۔